ہمارے ہاں تو سیاست اور بزنس ہی ایک ایسا پارٹ ٹائم بزنس ہے جو ایک عام آدمی افورڈ نہیں کر سکتا ہے .اہم انکشاف

ہمارے ہاں تو سیاست اور بزنس ہی ایک ایسا پارٹ ٹائم بزنس ہے جو ایک عام آدمی افورڈ نہیں کر سکتا ہے .اہم انکشاف

ہمارے ہاں تو سیاست اور بزنس ہی ایک ایسا پارٹ ٹائم بزنس ہے جو ایک عام آدمی ... 24 جون 2018 (00:07) 12:07 AM, June 24, 2018

ثنا مرزا کے پروگرام میں سینئیر تجزیہ کار اظہار الحق نے گُفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دو پہلو بُہت اہم ہیں .پہلا پہلو تو وعدہ خلافی اور بد عنوانی کا ہے .سارے پاکستان کی بزنس کمییونیٹی وہ ٹیکس بچانے کیلئے اپنے اثاثے کم بتاتی ہے ,نفع کم بتاتی ہے . تاجروں اور صنعت کاروں نے دوہرے رجسٹر رکھے ہوئے ییں یہ علیحدہ ٹیکس چوری کرتے ہیں .دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ سارے بُہت ہی امیر و کبیر طبقے کے لوگ ہیں.

ہمارے ہاں تو سیاست اور بزنس ہی ایک ایسا پارٹ ٹائم بزنس ہے جو ایک عام آدمی افورڈ نہیں کر سکتا ہے .اب ان لوگوں کے سٹیکس صرف الیکشن میں ہی نہیں ہیں ان لوگوں کے سٹیکس اور بھی ہیں .اگر یہ لوگ اپنے اصل اثاثے ظاہر کر دیں تو پھر انھیں ٹیکس بھی دینا پڑے گا پھر ایف آئی اے اور ایف آئی آر والوں کے سامنے بھی انھیں جواب دہ ہونا پڑے گا . ہمارے ہاں جو ٹیکس چوری ہے ,اثاثے کم بتائے جاتے ہیں یہ سب اداروں کی ملی بُھگت ہی سے کیا جاتا ہے .اگر ادارے کام کرتے ایف آئی اے کام کرتی ایف آئی آر کام کرتی تو نیب بنانے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی .

متعلقہ خبریں