حضرت عمر رضی اللہ عنہ قبول اسلام سے پہلے اسلام کے خلاف تھےحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے درپے رہتے . ایک مرتبہ کفار کی کمیٹی مشاورت کے لئیے بیٹھی اور کہا کوئی ہے جو محمد کو قتل کر دے . عمر نے کہامیں کرونگا

حضرت عمر رضی اللہ عنہ قبول اسلام سے پہلے اسلام کے خلاف تھےحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے درپے رہتے . ایک مرتبہ کفار کی کمیٹی مشاورت کے لئیے بیٹھی اور کہا کوئی ہے جو محمد کو قتل کر دے . عمر نے کہامیں کرونگا

حضرت عمر رضی اللہ عنہ قبول اسلام سے پہلے اسلام کے خلاف تھےحضرت محمد صلی ... 23 مئی 2018 (22:43) 10:43 PM, May 23, 2018

حضرت عمر رضی اللہ عنہ قبول اسلام سے پہلے اسلام کے خلاف تھےحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم

کو قتل کرنے کے درپے رہتے . ایک مرتبہ کفار کی کمیٹی مشاورت کے لئیے بیٹھی اور کہا کوئی ہے جو محمد کو قتل کر دے . عمر نے کہامیں کرونگا . کفار نےکہا بےشک تم کر سکتے ہو تلوار اٹھا ئی اور چل پڑے . راستے میں حضرت سعد بن وقاص ملے گفتگو ہوئی تو حضرت سعد نے کہا میں مسلمان ہو گیا ہوں عمر نے کہا اچھا پھر تلوار ادھر لا پہلے تجھ سے نمٹ لیتا ہوں ابھی تلوار چلنے کو ہی تھی کہ حضرت سعد رضی اللہ نے کہا پہلے اپنے گھر کی خبر لو تمھاری بہن اور بہنوئی دو نوں مسلمان ہو چکے ہیں . جب آپ وہاں پہنچے تو قرآن مجید پڑھنے کی آواز آ رہی تھی حضرت عمر کے ہاتھ میں کچھ چیز تھی ہمشیرہ کے سر پر ماری تو انکا خون بہہ نکلااس کے بعد پوچھا کیا کر رہے تھے . کیا تم نے اپنا دین چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کر لیا ہے . بہنوئی نے جواب دیا دوسرا دین سچا ہے . یہ سننا تھا کہ ان کو خوب مارا بہن نے چھڑانے کی کوشش کی تو ان کو بھی اس زور سے طمانچہ مارا کہ ان کا خون نکل آیا . بہن کہنے لگیں ہمیں اس وجہ سے مارا جا رہا ہے کہ ہم مسلمان ہو گئے اللہ اور اسکے سچے نبی کو مانا. جب آپ کی نظر صحیفہ مبارک پر پڑی تو آپ نے کہا دو میں بھی پڑھوں . بہن نے کہا آپ ناپاک ہیں غنسل اور وضو کرو اور پھر پڑھو جب لیکر پڑھا تو دل کی حالت ہی بدل گئی . کہنے لگے مجھے رسول خدا کے پاس لے چلو . آپ جب محمد صلٰی اللہعلیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو رسول پاک صلٰی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر باز آجا . حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیاحضرت باز آگیا اور کلمہ شہادت پڑھ لی