بھارت میں موذی وباء پھیل گئی ۔کئی افراد ہلاک۔ہزاروں کی جان شدید خطرے میں

بھارت میں موذی وباء پھیل گئی ۔کئی افراد ہلاک۔ہزاروں کی جان شدید خطرے میں

بھارت میں موذی وباء پھیل گئی ۔کئی افراد ہلاک۔ہزاروں کی جان شدید خطرے میں 23 مئی 2018 (18:26) 6:26 PM, May 23, 2018

کیرالہ(ویب ڈیسک) بھارت کیجنوبی ریاست کیرالہ میں نیپا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کی جانیں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ نیپا وائرس سے تحفظ کے واسطے ویکسین نہیں پائی جاتی۔ اس کو مخصوص نوعیت کے چمگادڑ منتقل کرتے ہیں اور یہ جسمانی رطوبت کے ذریعے پھیلتا ہے۔اس وائرس کے سبب اموات کی شرح 70% تک پہنچ چکی ہے۔جنوبی بھارتی ریاست کیرالہ میں نپیہ وائرس کے پھیلاؤ کے دوران، ریاستی حکومت نے چاروں طرف ریاستی چار ضلعوں کا سفر روکنے کے لئے بدھ کو مسافروں کو آگاہ کیا۔ریاست کے صحت کے سیکرٹری رجیو سدرانان نے جاری کردہ ایک مشاورتی نصیحت نا مے میں کہا کہ کیرالہ کے کسی بھی حصے کا سفر محفوظ ہے. لیکن اگر مسافروں کو زیادہ محتاط رہنے کی خواہش ہے تو وہ چار اضلاع کوزوکیوڈ، مالپرم، ویا ناد اور کنور کے سفر سے پرہیز کریں۔کیرالہ میں اس نیپا وائرس کے سبب پہلی موت جمعے کے روز ہوئی تھی۔ وائرس کا ذریعہ ایک کنواں تھا جس میں چمگادڑ بستے ہیں اور متاثرہ افراد اس کنوئیں سے پانی لیا کرتے تھے۔کوزیکیوڈ اور مالپرم کے اضلاع میں دس افراد نپہ وائرس سے مر چکے ہیں.نپیہ وائرس (NiV) انفیکشن ایک نئی ابھرتی ہوئی زونسسس ہے جس میں جانوروں اور انسانوں دونوں میں شدید بیماریاں پیدا ہوتی ہیں. بھارت کے صحت کے سیکٹر کے ایک ذمّے دار راجیو سدان دان کا کہنا ہے کہ کیرالہ ریاست کا سفر محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وائرس کا پھیلاؤ ابھی بڑی حد تک محدود ہے اور تمام کیسز کا تعلق ایک ہی گھرانے سے ہے-ھارت میں صحت کے سیکٹر کے ذمّے داران اس بات کا پتہ چلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا نادر نوعیت کا یہ وائرس دماغ کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے بڑے ملک میں ہر سال معدے کے امرض کی وجہ سے سیکڑوں اموات واقع ہوتی ہیں۔

متعلقہ خبریں