کاش آج آپ ایک زندہ جرنیل کوبلا کرپوچھ سکتے کہ اس نے آئین کے ساتھ کھلواڑ کیوں کیا؟ پرویز مشرف نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو نظر بند کیا لیکن انصاف کے منصب پر بیٹھے جج مشرف کو 1 گھنٹے کیلئے بھی جیل نہ بھجوا سکے۔نواز شریف

کاش آج آپ ایک زندہ جرنیل کوبلا کرپوچھ سکتے کہ اس نے آئین کے ساتھ کھلواڑ کیوں کیا؟ پرویز مشرف نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو نظر بند کیا لیکن انصاف کے منصب پر بیٹھے جج مشرف کو 1 گھنٹے کیلئے بھی جیل نہ بھجوا سکے۔نواز شریف

کاش آج آپ ایک زندہ جرنیل کوبلا کرپوچھ سکتے کہ اس نے آئین کے ساتھ کھلواڑ کیوں ... 23 مئی 2018 (16:39) 4:39 PM, May 23, 2018

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سابق وزیر اعظم نواز محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ افسوس ہوا کہ ماتحت ملازم استعفیٰ یا چھٹی پرجانے کا پیغام بھجوا رہا تھا۔ مشرف کے غیرآئینی اقدام پرواضح مئوقف اختیار کیا۔ دھمکی ملی مشرف کوکچھ نہیں ہوگا نقصان آپ کا ہوگا۔ مقصد تھا مجھے پی ایم ہاؤس سے نکال دیں، مشرف کیخلاف کارروائی آگے نہ بڑھے۔ جب مشرف کے خلاف مقدمے میں تیزی آئی تو عمران خان اور طاہر القادری اکٹھے ہوگئے۔

انہوں نے آج پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو نظر بند کیا لیکن انصاف کے منصب پر بیٹھے جج مشرف کو 1 گھنٹے کیلئے بھی جیل نہ بھجوا سکے، سارے ہتھیار اہل سیاست کے لیے بنے ہیں لیکن جب بات فوجی آمروں کے خلاف آئے تو فولاد موم بن جاتی ہے۔

مائنس ون کا اصول طے پا جائے تواقامہ جیسا بہانہ بھی بہت کافی ہوتا ہے۔ ریفرنسزکا فیصلہ کیا آتا ہے آپ پرچھوڑتا ہوں۔ ہمیشہ فوج اور عدلیہ کے تقدس کا خیال رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی خدمت کرنے والے ان لوگوں کا اصل گناہ کیا ہوتا ہے ؟ ان کا اصل گناہ صرف ایک ہی ہوتا ہے کہ پاکستان کی عوام ان کو چاہتے ہیں۔

ان کومنصب پر بٹھاتے ہیں اور وہ پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں۔میں بھی اسی راستے کا مسافر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ان کے ووٹ کی عزت کی جائے ان کی مرضٰ پراپنی مرضی مسلط نہ کی جائے۔

احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس میں بیان ریکارڈ کراتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ 12 اکتوبر کو مشرف نامی جرنیل نے اقتدار پر قبضہ کیا اور سب نے آگے بڑھ کر اس کااستقبال کیا۔ اس نے 8 سال بعددوبارہ آئین توڑا ، ایمرجنسی کے نام پر مارشل لا لگایا اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو نظر بند کیا جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔

جب مشرف کے خلاف مقدمے میں تیزی آئی تو عمران خان اور طاہر القادری اکٹھے ہوگئے۔ میں نے اپنے اقتدار اورذات کوخطرے میں ڈالا کہ ڈکٹیٹرکو اپنے کیے کی سزا ضرور ملنی چاہیے۔ نوازشریف نے کہا کہ میرے خلاف کیسز کا پس منظر کیا ہے سب بتانا چاہتا ہوں۔میری ناہلی کے محرکات قوم جانتی ہے۔ جب فیصلے پہلے ہوجائیں توجوازکےلیے حیلے بہانےتراشے جاتےہیں۔

مجھے مقدمات میں کیوں الجھایا گیا، قوم،ملک کا مفاد مزید کہنے کی اجازت نہیں دیتا۔ نواز شریف نے کہا کہ کاش آپ سینئرججزکوبلا کرپوچھ سکتے کہ وہ کیوں ہرمارشل لاء کو خوش آمدید کہتے رہے؟ کاش آج آپ ایک زندہ جرنیل کوبلا کرپوچھ سکتے کہ اس نے آئین کے ساتھ کھلواڑ کیوں کیا؟ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں کشمیری عوام پربھارتی مظالم کے خلاف بھرپور آوازاٹھائی۔

نواز شریف نے مزید کہا مشرف کیخلاف مقدمہ شروع ہوتے ہی اندازہ ہو گیا کہ آمر کو کٹہرے میں لانا کتنا مشکل ہوتاہے ، سارے ہتھیار اہل سیاست کے لیے بنے ہیں لیکن جب بات فوجی آمروں کے خلاف آئے تو فولاد موم بن جاتی ہے، پرویز مشرف پراسرار بیماری کا بہانہ بناکر دور بیٹھا رہاجنوری 2014 میں مشرف عدالت کیلئے نکلا توطے شدہ منصوبے کے تحت ہسپتال پہنچ گیا انصاف کے منصب پر بیٹھے جج مشرف کو 1 گھنٹے کیلئے بھی جیل نہ بھجوا سکے۔

متعلقہ خبریں