عکس چار سو ہے‎(پہلی قسط )

عکس چار سو ہے‎(پہلی قسط )

عکس چار سو ہے‎(پہلی قسط ) 23 مئی 2018 (16:16) 4:16 PM, May 23, 2018

ہوا تیز ہے اور اس کی شدت کے تیز برچھے میری آنکھوں میں چبتے چلے جاتے ہیں اور یوں میری نظر کے آگے نمی کی ایک جھلی نمودار ہونے لگتی ہے . محدود اور لامحدود    پر ابھری ہوئی اشیا اس آبی پردے کے پار سراب کی صورت لرز رہی ہیں . 

      نیچے میرے قدموں میں بچھے سپاٹ میدان کی بنجر سطح میں سے ہوک کی مانند ایک بگولہ اُٹھ رہا ہے . اس کے ان دیکھے دائروں میں ایک کانٹے دار جھاڑی آئی ہوئی ہے   جو بھنور میں پھنسے کنڈیالے چوہے کی طرح بے بسی سے ایک میکانکی تواتر میں گھومتی چلی جاتی ہے . ہوا کا زور ایک لحظہ بھر ٹوٹتا ہے اور کانٹے دار جھاڑی  گردش کی اس قید سے نکل کر ٹھنڈی پڑتی لاش کی طرح ایک آدھ دفعہ جھٹکوں  سے حرکت کرتی ہے . پھر میدان کی بنجر زمین پر ساکت ہو جاتی ہے . بگولہ پیچ وخم کھاتا اب ایک اور جھاڑی کی جڑوں کو چوس کر اُسے اپنے متحرک جسم کا حصہ بنا لیتا ہے. 

میں ایک مخصوص بلندی پر بیٹھا ان جھاڑیوں  کی بےبسی کو جانتاہوں . ان کی بے اختیاری سے واقف ہوں کیونکہ میں خود اسی طرح بےبس اور بے اختیا ر ہوں . میں ازل سے اس بگولے کے سفر کی زد میں ہوں . جو کبھی میرے وجود کی جھاڑی کو ایک مقام پر جڑیں پکڑنے نہیں دیتا. ... ہر سال دو سال بعد مجھے اکھاڑ پھینکتا ہےاور میں بے اختیار ہوکر اسکی متعین کردہ سمتوں میں گردش کرنے لگتا ہوں . حرکت میں آجاتا ہوں سفر پر نکل کھڑا ہوتا ہوں . 

        ہوا بہت تیز ہے .... فضا میں متواتر گونج ہے . جو شاید روز ازل کے ان ویرانوں میں اٹھی اور ان پر حاوی ہوگئی . اور پھر اس کی شُوکتی ہوئی صدائیں کبھی مدھم نہ ہوئیں . میرے کانوں میں پڑنے والی یہ اُداس   گونج  وہی ہے .جو اس کائنات میں سانس لینے والے پہلے   انسان کو سنائی تھی ......مگر میرے گردماتمی  سرسراہٹ کی یہ مدھم سرگوشیاں مجھے آنے والے کن دکھوں کا سندیسہ دے رہی ہیں . جو ابھی میرے وگمان میں بھی نہیں . ماؤں کے ماتم کی سرگوشیاں  جو پہلےپہل بچھاڑ کھا کر گرتی ہیں , پھر وہ دہائی دیتی ہیں. وقت گزرتا ہے تو لوگ ان کے ماتم سے تنگ آجاتے ہیں  اور پھر وہ بند کمروں میں چھپ کر آہستہ آہستہ  ان بلیوں کی طرح روتی ہیں جن کے بچے بچھڑ جاتے ہیں . 

نیچے بےآب وگیا وسعتوں میں بگولوں کی منتظر جھاڑیاں اپنے ہی سایوں پر بچھی ہیں اور انکے درمیان ایک سیاہ لکیر نظر آرہی ہے . ....کابل سے ہرات جانے والی سڑک اور اس لکیر پر میری بس ایک ڈنکی کھلونے کی طرح دکھائی دے رہی ہے . مختصر مگر مکمل  جزائیت کیساتھ .  کنڈکٹر اور  بس کا ڈرائیور نظر نہیں آرپے کیونکہ وہ اس وقت   وہاں موجود نہیں . ڈرائیور سڑک کے نزدیک  ایک چرواہے کے جھونپڑے  میں سو رہا ہے . اور کنڈکٹر ایک آئل ٹینکر پر لفٹ لے کر قندھار گیا ہوا ہے تاکہ فالتو ٹائر خرید کر آسکے جو اصولاّ آج صبح اسے کابل سے حاصل کر کے چلنا چاہیئے تھا . وہ فالتو ٹائر جس کی غیر موجودگی اس بلندی پر میری موجودگی کا باعث بنی . 

تہزیب کے تکون میں لپٹے ایک انسان کی حیثیت سے اگرچہ مجھے  سویڈن اور سوئیزرلینڈ کے منظم زمینی مناظر اپنی طرف کھینچتے ہیں .  مگر تہزیب کی یہ مصنوعی درخت کی جڑیں اس وقت ہی اکھڑ جاتی ہیں جب میں اپنے آپ کو افغانستان کی بے قابو لینڈ اسکیپ میں گھرا ہوا پاتا ہوں . میرے اندر کا وحشی اس وقت افق تک پھیلے ان بنجر پہاڑوں میں اورصحرائی   وسعتوں میں جکڑا جاتا ہے اور پھر انکا حصہ بن جاتا ہے.        

       میری پشت پر روس ہے اور  سامنے مرگِ دشت کا کنارا اور چار  چغیرے ایسے پر جلال زمینی مناظر جن کے دوران میں بیٹھے ہوئے مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے....جیسے ابھی ایک لمحہ پہلے کن فیکون کہا گیا ہے . ان سر بلند پہاڑوں کے    پتھروں کو کسی مجسمہ ساز نےنہیں   چھوا سوائے ایک عظیم بت تراش کے لفظ نے .... کن فیکون یہ وسیع ویرانے یہ  ہیبت ناک سلسلہ کوہ اور سنسناتی ہوئی ہوائیں وجود میں آئے ہیں .