مرے ہوئے باپ کو کوئی بدنام نہیں کرتاتھا۔۔۔۔اگر ان کی جگہ کوئی عام شخص فیکٹری میں سے چوری کرتے ہوئے پکڑا جاتا تو اس سے پوچھ گُچھ کی جاتی کہ کہاں سے لائے ہیں یہ پیسے .پاکستان کا یہ قانون نواز شریف کیلئے بھی ہونا چاہیئے ۔اوریا مقبول جان کا دبنگ تجزیہ

مرے ہوئے باپ کو کوئی بدنام نہیں کرتاتھا۔۔۔۔اگر ان کی جگہ کوئی عام شخص فیکٹری میں سے چوری کرتے ہوئے پکڑا جاتا تو اس سے پوچھ گُچھ کی جاتی کہ کہاں سے لائے ہیں یہ پیسے .پاکستان کا یہ قانون نواز شریف کیلئے بھی ہونا چاہیئے ۔اوریا مقبول جان کا دبنگ تجزیہ

مرے ہوئے باپ کو کوئی بدنام نہیں کرتاتھا۔۔۔۔اگر ان کی جگہ کوئی عام شخص ... 23 مئی 2018 (15:47) 3:47 PM, May 23, 2018

اوریا مقبو ل جان جو کہ بہترین پرمغز تجزیہ کرنے کا خاص تجربہ رکھتے ہیں۔انہوں نے اپنے پروگرام حرف راز میں سابق وزیر اعظم نواز شریف پر گفتگو کرتے ھوئے کہا ہیکہ

پوری زندگی میں جس شخص نے بھی کم از کم پچیس تیس سال دُنیا میں گُزارے ہیں . جس نے تھوڑا سا کوئی کاروبار کیا ہے جس نے کوئی نوکری کی ہے اُس کو یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ کام ایسے نہیں ہوتے .

اوریا کا مزید کہنا تھا کہ مجھےبڑی تکلیف ہوتی ہے .میں نے ایک کالم بھی لکھا ہے . دُنیا میں سب سے زیادہ مُقدس ترین رشتہ باپ اور اولاد کے درمیان ہوتا ہے . ماں اور باپ اولاد کے بارے میں بہت حساس ہوتے ہیں . بدقسمت ترین اولاد ہیں وہ لوگ جن کے والدین ہوں مگر وہ والدین بن کر نہ دکھائیں مگر ایسا ہوتا کبھی بھی نہیں ہے .بدترین کرپٹ ایس ایچ اوز ہوتے تھے اُنھوں نے اپنے بیٹوں کے نام پر جائیدادیں بنائی ہوئی ہوتی تھیں . بیٹیوں کے نام پر جائیدادیں بنائی ہوتی تھیں . مگر جب وہ پکڑے جاتے تھے تو وہ کہتے تھے کہ یہ جُرم میں نے کیا ہےمیرے بیٹے کو نہ پکڑو ورنہ وہ کہے سکتے تھے کہ میرے سُسر مر گئے ہیں اُنھوں نے دیا تھا یہ سب .زیادہ تر نام سُسر کالیا جاتا ہے مرے ہوئے باپ کو کوئی بدنام نہیں کرتاتھا ,دوسرا یہ ہوتا ہے کہ باپ کی عزت کے اوپر حرف نہیں آنے دیتے .نواز شریف صاحب نے اس پورے بیان میں دو کام کئے ہیں . ایک یہ کہ مجھے نہیں پتہ میرا باپ کیا کام کرتا تھا جو قبر میں سو رہا ہے اس سے جا کر پوچھو اور دوسرا یہ کہ حسن حسین سے پوچھیں .یہ پاکستان کے نظامِ انصاف کے مُنہ پر تھپڑ مار رہے ہیں اگر ان کی جگہ کوئی عام شخص فیکٹری میں سے چوری کرتے ہوئے پکڑا جاتا تو اس سے پوچھ گُچھ کی جاتی کہ کہاں سے لائے ہیں یہ پیسے .پاکستان کا یہ قانون نواز شریف کیلئے بھی ہونا چاہیئے . انھیں چاہیٰئے اپنے بیٹوں کو لندن سے بلوائیں اور پوچھیں مگر ایسا نہیں ہو گا اس کی بنیادی وجہ یہ کہ نواز شریف صاحب نے ایک ایسا بیانیہ دینے کی کوشش کی ہے .پارٹی کیساتھ بھی ظُلم کیا ہے اور مُلک کیساتھ بھی ظُلم کیا ہے مجھے پارٹی کے لوگ ملتے ہیں جو ایم این اوز اور ایم پی اے, جو پارٹی چھوڑ کر جارہے ہیں یا تیاریاں کر رہے ہیں .وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آپ ہمیں یہ بتا دیں اوریا صاحب"; ہم پر سب سے بڑا الزام کیاہے اس وقت ".میں نے جواب دیا کرپشن کا .کہنے لگے نہیں ہم پر سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ جو ختمِ نبوت کا بل تھا وہ جب واپس لیا گیا تو اس وقت نواز شریف نے مُنہ سے ایک لفظ نہیں نکالا قوم سے معافی مانگنے کیلئے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حُرمت کے حوالے سے نواز شریف نے گُفتگو کرنا مناسب نہیں سمجھا . اُنھوں نے کہا کہ ایک لفظ بھی معافی کیلئے نکالا ہوتا تو ہم شیر ہو جاتے اپنے آپ کو بچانے کیلئےاپنی پارٹی کو بچانے کیلئے ".

نواز شریف صاحب غلط گھوڑے پر سوار ہو گے ہیں . پاکستان میں اگلے 4 ماہ بہت اہم ہیں . مثال کے طور پر ایک شخص ایسی پر سفر کرے جس کا راستہ غلطی سے بدل گیا ہو اور بعد میں پتہ چلے کہ جانا تو لاہور تھا مر بیٹ دوسری بس میں گیا ہوں اگلے چار ,پانچ ماہ بعد نواز شریف کواندازہ ہو گا کہ نواز شریف بھی غلط ٹرین میں سوار ہو گےہیں .الیکشن کی بات کی جائے تو , الیکشن ستمبر تک ہو سکتے ہیں .

میں دوبارہ کہتا ہوں کہ پاکستان میں اگلےچار پانچ ماہ بہت اہم آئیں گے جو ہر لخاظ سے اہم ہونگے معاشی لخاظ سے ,اقتصادی حتیٰ کہ ہر لخاظ سے اہم ہونگے