اسلام آباد ہائیکورٹ کا سیکٹر جی سکس میں آبپارہ مارکیٹ میں آئی ایس آئی دفتر کے باہر سڑک ایک ہفتے میں کلیئر کرنے کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ کا سیکٹر جی سکس میں آبپارہ مارکیٹ میں آئی ایس آئی دفتر کے باہر سڑک ایک ہفتے میں کلیئر کرنے کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ کا سیکٹر جی سکس میں آبپارہ مارکیٹ میں آئی ایس آئی دفتر ... 23 جون 2018 (16:12) 4:12 PM, June 23, 2018

اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اسلام آباد شہر میں بعض علاقوں میں سیکیورٹی کے نام پر بند کی گئی سڑکوں کے حوالے سے کیس کی سماعت کی۔

اس موقع پر جوائنٹ سیکریٹری وزارت دفاع محمد یونس عدالت میں پیش ہوئے جس پر عدالت نے سیکرٹری دفاع کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے وزارت دفاع کے نمائندے سے سوال کیا کہ ’’کیا آئی ایس آئی کے پاس سڑک بند کرنے کی کوئی اجازت ہے؟‘‘؛ جس پر انہوں نے کہا کہ ’’دہشت گردی زیادہ ہونے کی وجہ سے سی ڈی اے کی مشاورت سے سٹرک بند کی گئی تھی‘‘۔ جسٹس صدیقی نے کہا کہ ’’آپ کے پاس کسی قسم کی کوئی اجازت نہیں ہے۔ آپ خود کہتے ہیں دہشت گردی ختم ہو چکی اب سڑک کیوں نہیں کھول رہے‘‘۔، ہائیکورٹ نے سیکٹر جی سکس میں آبپارہ مارکیٹ میں آئی ایس آئی دفتر کے باہر سڑک ایک ہفتے میں کلیئر کرنے کا حکم دیا ہے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ’’اپنی حدود کے اندر بے شک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنالیں، خود روڈ خالی کردیں وگرنا سی ڈی سے کراؤں گا‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’یہ تاثر نہیں ہونا چاہئے کہ فوج یا حساس ادارے قانون کی پابندی نہیں کرتے۔ یہ تاثر بھی ختم ہونا چاہئے کہ حساس ادارے والوں کو پوچھنے والا کوئی نہیں۔ قانون ہم سب کے لئے برابر ہے کوئی اس سے باہر نہیں‘‘۔

عدالت نے کیس کی سماعت 29 جون تک ملتوی کر دی۔

متعلقہ خبریں