بھارتی فوج باز نہ آ ئی مزید کشمیری نوجوانوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ لئے۔

بھارتی فوج باز نہ آ ئی مزید کشمیری نوجوانوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ لئے۔

بھارتی فوج باز نہ آ ئی مزید کشمیری نوجوانوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ لئے۔ 23 جون 2018 (13:15) 1:15 PM, June 23, 2018

مقبوضہ کشمیر کے ضلع اسلام آباد میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے پانچ کشمیری نوجوان شہید جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق شہدا میں میں داؤد صوفی، ماجدڈار، محمد اشرف، عادل میراوریوسف راٹھورشامل ہیں۔کشمیری نوجوانوں کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں احتجاج اور جھڑپیں ہوئیں جبکہ بھارتی فورسز کی جانب سے مظاہرین پرشاٹ گن پیلٹ اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں 20 افراد زخمی ہوگئے۔

قبل ازیں صحافی سید شجاعت بخاری کے قتل کے خلاف جمعرات کو مقبوضہ کشمیر میں عام ہڑتال کی گئی۔پچاس سالہ شجاعت بخاری انگریزی روزنامے 'رائزنگ کشمیر' کے مدیرِ اعلیٰ تھے جنہیں نامعلوم افراد نے 14 جون کی شام کو اُس وقت گولیاں مارکر قتل کردیاتھا جب وہ سرینگر کے مشتاق پریس اینکلیو میں واقع اپنے دفتر سے نکل کر گھر جانے کے لیے گاڑی میں بیٹھ رہے تھے۔اس حملے میں اُن کے دو ذاتی محافظ حمید چوہدری اور ممتاز اعوان بھی جاںبحق ہوئے تھے۔

یاد رہیکہ اس سے قبل بھارتی فورسز نے ضلع پلوامہ کے علاقے ترال میں سرچ آپریشن کی آڑ میں فائرنگ کر کے تین نوجوانوں کو شہید کر دیا ، کے ایم ایس کے مطابق قابض بھارتی افواج نے ضلع پلوامہ میں ایک گھر بھی تباہ کر دیا۔ بھارتی فورسز کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا ایک اور انتہائی افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، بزدل بھارتی فوجیوں نے پتھراؤ سے بچنے کیلئے 4 کشمیری نوجوانوں کو اپنی گاڑیوں کے سامنے بٹھا لیا۔ بھارتی فوج پوٹا کے کالے قانون کے تحت غیر معمولی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے تمام بین الاقوامی اور انسانی قوانین کی کھلے عام خلاف ورزیاں کرتی ہے اور ڈھٹائی سے کشمیری نوجوانوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔یاد رہیکہ بھارتی فورسز نے فائرنگ کرکے عید کے روز دو کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم عید پر بھی جاری رہے، عید الفطر کے روز بھی بھارتی فورسز نے فائرنگ کرکے دو کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔مقبوضہ کشمیر میں عید کےدن آزادی کے حق میں نعرے لگائے گئے ، پاکستانی پرچم لہرادیے گئے بھارتی جبر و تشدد عید کے دن بھی نہ رکا قابض فورسز نے نہتے مظاہرین پر گولیاں چلا دیں جس کے باعث ایک نوجوان شہید درجنوں زخمی ہوگئے، میرواعظ عمرفاروق نے عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہعید کےدن بھی کشمیری بھارتی مظالم سے محفوظ نہیں ۔وادی میں عیدالفطر کی نماز کے بعد بھارت مخالف مظاہرے کئے گئے جس میں مظاہرین نے پاکستان کے حق میں نعرے لگائے اور پاکستانی جھنڈے لہرائے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ وادی میں نمازِ عید کے بعد وادی بھر میں بھارتی مظالم کے خلاف مظاہرے کیے گئے، کشمیریوں نے آزادی کے حق میں نعرے لگائے اور پاکستانی پرچم لہرائے۔ وادی میں نوجوان کی شہادت کے خلاف اب بھی مظاہرے کیے جارہے ہیں اور کئی مقامات پر بھارتی فوج سے جھڑپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔مظاہرین نے بھارتی فوج کے کشمیر سے نکل جانے کا مطالبہ بھی کیا، بھارتی فورسز نے نہتے کشمیریوں پر پیلٹ گنز سے فائرنگ کردی آنسو گیس کے شیل برسائے ۔ بھارتی فورسز نے حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کو نماز ِعید میں شرکت سے روک دیا۔حریت رہنما میرواعظ عمرفاروق کہتے ہیں کشمیرکامسئلہ سیاسی ہے اس کا فوجی حل ممکن نہیں۔بھارتی فورسز نے مظاہرین کو روکنے کے لیے آنسو گیس کے شیل برسائے اور پیلٹ گن کا استعمال کیا، مظاہرین سے جھڑپوں کے دوران بھارتی فوج نے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں دو نوجوان شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔

متعلقہ خبریں