سکھر کے سول اسپتال چانڈکا ہسپتال کتنے وینٹی لیٹر ہیں؟چیف جسٹس کے انتظامیہ سے سوال پر ایسا جواب آیا کہ چیف جسٹس برھم ہو گئے۔

سکھر کے سول اسپتال چانڈکا ہسپتال کتنے وینٹی لیٹر ہیں؟چیف جسٹس کے انتظامیہ سے سوال پر ایسا جواب آیا کہ چیف جسٹس برھم ہو گئے۔

سکھر کے سول اسپتال چانڈکا ہسپتال کتنے وینٹی لیٹر ہیں؟چیف جسٹس کے انتظامیہ ... 23 جون 2018 (12:11) 12:11 PM, June 23, 2018

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار سندھ کے اسپتالوں کی حالت زار کا جائزہ لینے سکھر کے سول اسپتال پہنچے, انہوں نے سکھر کے سول اسپتال کے وارڈز کا دورہ کیا اور سہولیات کی عدم فراہمی پر برہمی کا اظہار کیا، ان کا کہنا تھا کہ انسانوں کیلئے ایسے اسپتال کسی صورت قبول نہیں۔چیف جسٹس جسٹس ثاقب نثار چانڈکا ہسپتال پہنچ گئے۔ چیف جسٹس نے مختلف وارڈز کا دورہ کیا اور مریضوں کی عیادت کی۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے ہسپتال کی لیبارٹری کا جائزہ بھی لیا۔ لیبارٹری کی ابترصورتحال پرچیف جسٹس نے ایم ایس پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ میری آمد پر ہسپتال کی یہ حالت ہے تو اس سے پہلے کیا حالت ہو گی۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے جتنے ازخود نوٹس لئے وہ بنیادی حقوق سے منسلک تھے، کل یا پرسوں منچھرجھیل کا دورہ کروں گا، سندھ میں اسپتالوں کی صورتحال بہت خراب ہے۔

انتظامیہ نے چیف جسٹس کی متوقع آمد کے پیش نظر شہر میں صفائی ستھرائی کروائی اس سے پہلے رات گئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سندھ ہائی کورٹ کے ججز اور افسران کی ایک بڑی تعداد کے ہمراہ سکھر کے سول ہسپتال کا دورہ کیا دورے کے دوران سول اسپتال کے آئی سی یو میں گندگی کی حالت دیکھ کر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہاں مریضوں کو کسی قسم بنیادی سہولتیں تک میسر نہیں ہیں، اسپتال میں وینٹی لیٹر نہیں ہے تو ایمرجنسی میں کیا کیا جاتا ہے؟ انسانوں کیلئے ایسے اسپتال کسی صورت قبول نہیں ہیں۔

جب چیف جسٹس نے انتظامیہ سے سوال کیا کہ ہسپتال میں کتنے وینٹی لیٹر ہیں تو ان کو بتایا گیا کہ ہسپتال میں ایک بھی وینٹی لیٹر نہیں ہے جس پر چیف جسٹس نے تعجب کا اظہار کیا ۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر انور پالاری سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سول اسپتال انتظامات سے مطمئن نہیں ہوں، آپ کی مجبوریاں جانتا ہوں، فنڈز کی کمی کے باعث مسائل لازمی ہوں گے، جامع رپورٹ تیار کرکے مجھے ارسال کریں تاکہ ذمہ داروں کا محاسبہ کیا جاسکے، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

علاوہ ازیں چیف جسٹس کے دورے کے دوران ایس آرپی کے برطرف اہلکاروں نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا، چیف جسٹس نے احتجاج کرنیوالے مظاہرین کے مطالبات غور سے سنے اور انہیں مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی۔

انہوں نے اسپتال کے مختلف شعبہ جات کی حالت زار پربرہمی کا بھی اظہار کیا چیف جسٹس نے اس موقع پر اسپتال کی کارکردگی اور انتظامات پر عدم اطیمنان کا بھی اظہار کیا اور انتظامات کو بہتر سے بہتر بنانے اور مریضوں کو سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات بھی جاری کیں ۔

اس موقع پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دریا کے کنارے ہونے کے باوجود سکھر کے شہریوں کو پینے کا صاف پانی تک نہیں مل رہا، صاف پانی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کئےجائیں۔

عوام کو صحت کی سہولتوں کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے، اسپتالوں سے آنے والی متعدد شکایات بنیادی حقوق سے جڑی ہیں، سندھ میں پانی کے مسئلے کیلئے عدلیہ جدوجہد کررہی ہے، امید ہے3سے4ماہ میں مثبت اقدامات سامنے آجائیں گے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ کل یا پرسوں منچھر جھیل کا دورہ کروں گا، سپریم کورٹ کے ذریعے منچھرجھیل کے مسائل حل ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن قریب آگئے ہیں کسی طرح کا سیاسی تاثر نہیں دیناچاہتا، کہنا چا ہتا ہوں میرے ریٹرننگ افسران کی عزت کی جائے، آراوز کیخلاف غیرضروری زبان کےاستعمال سے گریز کیا جائے، سیاستدان بھی عدلیہ کی عزت کریں۔

متعلقہ خبریں