قلند ر بخش جر ات:اب گزارا نہیں اس شوخ کے در پر اپنا ...........جس کے گھر کو یہ سمجھتے تھے کہ ہے گھر اپنا

قلند ر بخش جر ات:اب گزارا نہیں اس شوخ کے در پر اپنا ...........جس کے گھر کو یہ سمجھتے تھے کہ ہے گھر اپنا

قلند ر بخش جر ات:اب گزارا نہیں اس شوخ کے در پر اپنا ...........جس کے گھر کو یہ ... 22 جون 2018 (19:00) 7:00 PM, June 22, 2018

اب گزارا نہیں اس شوخ کے در پر اپنا

جس کے گھر کو یہ سمجھتے تھے کہ ہے گھر اپنا

کوچۂ دہر میں غافل نہ ہو پابند نشست

رہ گزر میں کوئی کرتا نہیں بستر اپنا

غم زدہ اٹھ گئے دنیا ہی سے ہم آخر آہ

زانوئے غم سے ولیکن نہ اٹھا سر اپنا

دیکھیں کیا لہجۂ ہستی کو کہ جوں آب رواں

یاں ٹھہرنا نظر آتا نہیں دم بھر اپنا

گر ملوں میں کف افسوس تو ہنستا ہے وہ شوخ

ہاتھ میں ہاتھ کسی شخص کے دے کر اپنا

وائے قسمت کہ رہے لوگ بھی اس پاس نہ وہ

ذکر لاتے تھے کسی ڈھب سے جو اکثر اپنا

ذبح کرنا تھا تو پھر کیوں نہ مری گردن پر

زور سے پھیر دیا آپ نے خنجر اپنا

نیم بسمل ہی چلے چھوڑ کے تم کیوں پیارے

زور یہ تم نے دکھایا ہمیں جوہر اپنا

کیا کریں دل جو کہے میں ہو تو ہم اے جرأتؔ

نہ کہیں جائیں کہ ہے سب سے بھلا گھر اپنا

متعلقہ خبریں