این اے 125سے ٹکٹ کااصل امیدواراور حق دارمیں ہوں۔ن لیگ سے ایک اور آواز بلند،ٹکٹوں کی تقسیم پرتحفظات کا اظہار کردیا گیا

این اے 125سے ٹکٹ کااصل امیدواراور حق دارمیں ہوں۔ن لیگ سے ایک اور آواز بلند،ٹکٹوں کی تقسیم پرتحفظات کا اظہار کردیا گیا

این اے 125سے ٹکٹ کااصل امیدواراور حق دارمیں ہوں۔ن لیگ سے ایک اور آواز ... 22 جون 2018 (18:08) 6:08 PM, June 22, 2018

میڈیا رپورٹس کے مطابق قائد مسلم لیگ ن نوازشریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کے قریبی رشتہ دار بلال یٰسین نے بھی ٹکٹوں کی تقسیم پرتحفظات کا اظہار کردیا ہے۔

بلال یٰسین نے کہا کہ این اے 125سے ٹکٹ کااصل امیدواراور حق دارمیں ہوں ۔انہوں نے پارٹی قیادت سے مطالبہ کیا کہ این اے 125سے ٹکٹ کا حقدار امیدوار پرویز ملک نہیں ہے۔لہذاپارٹی قیادت پرویز ملک کی جگہ مجھے ٹکٹ دے۔دوسری جانب این اے 125سے مسلم لیگ ن کی رہنماؤں ایاز صادق اور پرویز ملک کے کاغذات نامزدگی چیلنج کردیے ہیں۔کاغذات نامزدگی پی ٹی آئی کی مدمقابل امیدوار یاسمین راشد نے چیلنج کیے ہیں۔ این اے 125سے مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز نے بھی اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروا رکھے ہیں۔

درخواست کنندہ کا اعتراض ہے کہ ریٹرننگ آفیسر نے سردار ایاز صادق اور پرویز ملک کے کاغذات نامزدگی حقائق کے برعکس منظور کیے۔سردار ایاز صادق اور پرویز ملک نے اثاثوں کی مکمل تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ واضح رہے گزشتہ روز ٹکٹوں کی غیرمنصفانہ تقسیم پرتحفظات کا اظہار کرتے ہوئے زعیم قادری نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما زعیم قادری نے آزاد حیثیت سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما زعیم قادری نے آزاد حیثیت سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ زعیم قادری کے علاوہ ن لیگ کے مزید 2 رہنما عمران شاہ اور آصف رضا بیگ بھی آزاد حیثیت میں الیکشن لڑیں گے۔ذرائع کے مطابق زعیم قادری این اے 133 ، عمران شاہ پی پی 166 اور آصف رضا بیگ پی پی 167 سے آزاد حیثیت میں الیکشن میں حصہ لیں گے۔پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء زعیم حسین قادری نے کہا ہے کہ حمزہ شہبازشریف کے بوٹ پالش نہیں کرسکتا ۔میں سید ہوں ،اولاد امام حسین ہوں ،جان دے سکتا ہوں عزت نہیں دوں گا ،لاہور تمہاری اور تمہارے باپ کی جاگیرنہیں ہے،تمہیں سیاست کرکے دکھاؤں گا ۔ میں نے 8اکتوبر 1999ء کو مسلم لیگ ن میں ایک ادنیٰ کارکن کی حیثیت سے عملی سیاست کا آغاز کیا۔اس کی بڑی وجہ میرے خون میں مسلم لیگ تھی ،ہے اور رہے گی۔تحریک پاکستان میں کارکردگی دکھانے پرتین گولڈمیڈلز سے نوازا۔میرے والد ،اور دادا نے قائد اعظم کے کہنے پراس خطاب کولینے سے انکار کردیا جوانگریز نے ان کا دیا تھا۔یہ باتیں اس لیے کررہا ہوں کہ یہ باتیں میں نے کبھی بھی نہیں کیں۔انہوں نے کہاکہ میرے والد نے ایوب خان، یحیٰ خان ، ضیاء الحق اور ذوالفقار بھٹو کی سول آمریت میں جیلیں کاٹیں۔پانچ سال پابند سلاسل بھی رہا۔ شہبازشریف نے 2008ء کے شروع میں فون پربتایا کہ صدرکو تمہاری شکل پسند نہیں اس لیے جنرل سیکرٹری کا عہدہ چھوڑ دو۔میں نے کوئی دوسرا سوال نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ پچھلے دس برس میں وہ لوگ جوپارٹی میں نہیں تھے ان کووزراء بنایا گیا۔لیکن انہوں نے پارٹی کودفاع نہیں کیا۔ میں نے روزپانچ گھنٹے ٹی وی پراپنی سیاست اور جماعت کودفاع کیا۔لوگوں سے برابھلا سنا لیکن کبھی اس بات کاذکر نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ میں حمزہ شہبازشریف کے بوٹ پالش نہیں کرسکتا ۔میں سید ہوں ۔اولاد امام حسین ہوں ۔جان دے سکتا ہوں عزت نہیں دوں گا ۔لاہور تمہاری اور تمہارے باپ کی جاگیرنہیں ہے۔تمہیں سیاست کرکے دکھاؤں گا ۔انہوں نے کہاکہ میں تمہاری نوکری نہیں کروں گا ۔میں نوکری عوام کی کروں گا ۔تم اپنے لاڈلوں ، بوٹ پالشیوں اور مالشیوں کولاؤ۔

دوسری جانب تحریک انصاف نے زعیم قادری کو شمولیت کی دعوت دے دی ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے شمولیت کی پیش کش جمعرات کے روز زعیم قادری کی جانب سے آزاد الیکشن لڑنے کے اعلان کے بعد کی گئی۔تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما زعیم قادری نے ن لیگ کو خیر آباد کہہ دیا ہے۔ زعیم قادری نے حمزہ شہباز اور پارٹی قیادت کے رویے کیخلاف بغاوت کرتے ہوئے آزاد الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔زعیم قادری کے اس اعلان کے بعد تحریک انصاف کی جانب سے بھی فوری ردعمل دیا گیا۔

جسکے جواب میں تحریک انصاف کی جانب سے شمولیت کی دعوت پر زعیم قادری نے تحریک انصاف کو مایوس کر دیا۔

متعلقہ خبریں