خدا کو حاضر ناظرجان کرکہتا ہوں جہانگیرترین سےکوئی جھگڑا نہیں، جوکھیل میں ہی نہیں،اس سے کیوں جھگڑوں؟عمران خان نمبرگیم سے ہی وزیراعظم بن سکتے ہیں۔شاہ محمود قُریشی

خدا کو حاضر ناظرجان کرکہتا ہوں جہانگیرترین سےکوئی جھگڑا نہیں، جوکھیل میں ہی نہیں،اس سے کیوں جھگڑوں؟عمران خان نمبرگیم سے ہی وزیراعظم بن سکتے ہیں۔شاہ محمود قُریشی

خدا کو حاضر ناظرجان کرکہتا ہوں جہانگیرترین سےکوئی جھگڑا نہیں، جوکھیل میں ہی ... 22 جون 2018 (17:14) 5:14 PM, June 22, 2018

پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قُریشی نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ جب سے الیکشن ہو رہے ہیں تب سے ہی ٹکٹوں کی تقسیم ایک دقت آزما اور مُشکل عمل ہے .لیکن پاکستان تحریکِ انصاف نے عمران خان کی سربراہی میں ایک اصول بنایا اور اس اصول کے 3 ستون تھے کہ جب ٹکٹ دیا جائیگا تو 3 چیزوں کو مدِ نظر رکھنا چاہئیے . 1. پارٹی سے وفاداری , 2. دیانتداری , 3. جمہوریت . عمران خان نمبرگیم سے ہی وزیراعظم بن سکتے ہیں،

پی ٹی آئی نے جو بُنیاد دیانت داری پر رکھی ہے . پی ٹی آئی کہ کوشش ہو.گی کہ وہ میرٹ کو فوقیت دے . ساڑھے 4000 سے زیادہ درخواستیں تحریکِ انصاف کو موصول ہوئیں تھی .پاکستان کی کسی بھی سیاسی پارٹہ کو اتنی درخواستیں نہیں ملتیں کیونکہ لوگ اور اُمید وار پیپلز پارٹی اور ن لیگ سے مایوس ہو چُکے ہیں .

شاہ محمود قُریشیی کا کہنا تھا کپ مُجھے یاد ہ کہ 2013 میں حلقے حالی پڑے رھے اور کوئی درخواست نہیں دینے آتا تھا . لیکن آج اللہ.کے فضل سے پشاور کا ایک صقبائی اسمبلی کا حلقہ ہے اُسمیں 1 حلقے کیلئے 73 درخواستیں موصول ہوئی ہیں . عمران خان نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پارٹی میں دیانتداری سے فیصلے کریں گے . عون عباس نے کل مُطالبہ کیا کہ مُجھے پی پی 213 یا پی پی 216 سے ٹکٹ دیا جائے یہ اُن کا حق ہے وہ ضرور مانگیں .میں نے اُن سے کہا ک آپ نے کہا تھا کہ مُجھے الیکشن میں دلچسپی نہیں ہے مُجھے تنظیمی عُہدہ دلوائیں .اگر آپ کا ان حلقوں پر میرٹ پے حق بنتا ہے تو آپ ضرور ٹکٹ لے لیں .لیکن آپ یہاں گلی محلوں ,کونسلوں کو جانتے ہیں اور نہ ہی آپ کا ان پر حق ہے . اگر آپ کا تو پی پی213 پر بنتا تھا جہاں آپکا گھر ,زمین اور برادری ہے . جب آپ اور میں اس پارٹی میں نہیں تھے تو اُس وقت اعجاز حُسین جُنجوا جون کی تپتی گرمی میں اجلاس مُنقعد کیا گیا تھا اُس میں اعجاز حُسین جنجوا صفِ اول میں شریک تھا . اگر میرٹ پر بات کرنی ہے تو اُسمیں بھی اعجاز حُسین جنجوا کی قُربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ خدا کو حاضر ناظرجان کرکہتا ہوں جہانگیرترین سےکوئی جھگڑا نہیں، جوکھیل میں ہی نہیں، الیکشن ہی نہیں لڑسکتا، اس سے کیوں جھگڑوں؟مجھے احتجاجی کارکنوں کا احساس ہے، کارکنوں کی سفارش ملاقاتیں کون کراتا ہے، وہ اون کیوں نہیں کرتے؟ سکندربوسن کوکون لانا چاہ رہا ہے؟ عائشہ جٹ بی بی کو صوبائی ٹکٹ کس نےدلوایا؟ انہوں نے آج یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزارت خارجہ ٹھکرائی، قومی اسمبلی کی نشست ٹھکرائی، نظریے کا سودا کرنے کیلئے یہ سب نہیں ٹھکرایا۔انہوں نے ایک سوال آپکی اورجہانگیرترین کی سردجنگ سے پارٹی کونقصان ہورہاہے؟ کے جواب میں کہا کہ خدا کو حاضر ناظرجان کرکہتا ہوں جہانگیرترین سےکوئی جھگڑا نہیں۔ جوکھیل میں ہی نہیں، الیکشن ہی نہیں لڑسکتا، الیکشن گیم سےباہرہے اس سے کیوں جھگڑوں؟ مجھے ان کارکنوں کا احساس ہے جو احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج کارکن کررہےہیں میں تو نہیں کرارہا۔ایسا کون کررہا ہے؟ کون انکی سفارش کررہا ہے؟ کون ملاقاتیں کراتا ہے،وہ کیوں اون نہیں کرتے؟ ان میں اتنی اخلاقی جرات کیوں نہیں کہ مانیں کہ ہم سکندر بوسن کو لارہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں اپنے کسی رشتہ دار کو اپنے نظریے پر فوقیت نہیں دوں گا۔حق مانگنا ہر کسی کا حق ہے فیصلہ کرنا پارٹی کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی فیصلہ کرےگی۔ عمران خان فیصلہ کریں گے خوا وہ میرےعزیزکے حق میں ہویا خلاف ہو۔

متعلقہ خبریں