فلسطینی گھرانے کو زندہ جلانے والے افراد کیحق میں اسرائیلی عدالت کا سفاکانہ اقدام

فلسطینی گھرانے کو زندہ جلانے والے افراد کیحق میں اسرائیلی عدالت کا سفاکانہ اقدام

فلسطینی گھرانے کو زندہ جلانے والے افراد کیحق میں اسرائیلی عدالت کا سفاکانہ ... 22 جون 2018 (15:38) 3:38 PM, June 22, 2018

ااسرائیل کے شہر لُد کی مرکزی عدالت نے 2015ء میں دوما کے گاؤں میں فلسطینی خاندان کے قاتلوں کے بنیادی اعترافات کا ایک حصّہ کالعدم کر دیا ہے۔ عدالت کا موقف ہے کہ اعترافی بیان کا مذکورہ حصّہ تشدد کے بل بوتے پر زبردستی لیا گیا۔ عدالت نے بیان کے بقیہ حصّے کو قابل قبول قرار دیا۔

تین برس قبل شدت پسند یہودی آباد کاروں نے مغربی کنارے میں نابلس کے گاؤں دوما میں ایک فلسطینی گھرانے کے گھر کو آگ لگا دی تھی۔ اس واقعے کے نتیجے میں 18 ماہ کا بچہ علی فوت ہو گیا جب کہ اس کے والدین اور بھائی احمد (5 سالہ) شدید زخمی ہو گیا۔ بعد ازاں خاندان کا سربراہ سعد دوابشہ اور اس کی بیوی ریہام دوابشہ بھی زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔اسرائیلی مرکزی عدالت نے مرکزی ملزم عمیرام بن الوئیل اور جرم میں ملوث ایک کم عمر یہودی کے بنیادی اعترافات کو ختم کر دیا۔

تین برس قبل اپنے گھر میں شوہر اور بچوں سمیت شدت پسند یہودی آباد کاروں کے ہاتھوں زندہ جلائی جانے والی فلسطینی خاتون کے والد حسین دوابشہ نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ "اسرائیلی عدالتوں نے دُہرا معیار اپنا رکھا ہے۔ تشدد کے ذریعے فلسطینی قیدیوں سے حاصل ہونے والے بیانات پر اعتماد کیا جاتا ہے جب کہ وہ ہی عدالت شدت پسند یہودیوں کے اعترافی بیانات کو اس حیلے کے ساتھ مسترد کر دیتی ہے کہ یہ یہ بیان غیر قانونی طریقوں سے حاصل کیے گئے ہیں۔آٹھ سالہ احمد جلائے جانے والے فلسطینی خاندان کا واحد بچ جانے والا فرد اور اس بھیانک جرم کا اکلوتا گواہ ہے۔ اس نے کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ "مجھے میرے ماں باپ لوٹا دو"۔

متعلقہ خبریں