کبھی کسی کی خوش آمد نہیں کی، نوازشریف کو بھی بتا دیا تھا کہ خوشامدی لوگ ۔۔۔۔۔۔ میرا سر صرف اللہ کے سامنے جھکتا ہے۔چوہدری نثار پھر ایکشن میں

کبھی کسی کی خوش آمد نہیں کی، نوازشریف کو بھی بتا دیا تھا کہ خوشامدی لوگ ۔۔۔۔۔۔ میرا سر صرف اللہ کے سامنے جھکتا ہے۔چوہدری نثار پھر ایکشن میں

کبھی کسی کی خوش آمد نہیں کی، نوازشریف کو بھی بتا دیا تھا کہ خوشامدی لوگ ... 22 جون 2018 (10:43) 10:43 AM, June 22, 2018

چوہدری نثار نے روات میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ ٹکٹ والا ہو یا بغیرٹکٹ والا، انشااللہ سب کو یہاں شکست فاش ہوگی، جو امیدوار میرے مدمقابل ہیں، یہ ان کاحلقہ ہی نہیں ، مگر انھیں یہاں سے لڑایا جارہا ہے ۔ اقتدار میں آکر حلقے کے لئے کام کیا، اپنی جیب نہیں بھری، کبھی اس علاقے میں بجلی اور سڑکیں نہیں تھیں۔ کبھی کسی کی خوش آمد نہیں کی ، نوازشریف کو بھی بتا دیا تھا کہ خوشامدی لوگ مطلب پرست ہوتے ہیں، میرا سر صرف اللہ کے سامنے جھکتا ہے ۔

انھوں نے کہا کہ انسان ہوں، غلطیاں ہوتی ہیں، مگرجان بوجھ کر کوئی غلط کام نہیں کیا، مخالف کو بھی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا، کبھی زبردستی ووٹ نہیں لیا۔ اقتدارمیں آکر فیکٹری یا پیٹرول پمپ نہیں بنایا، 8 بار قومی اسمبلی کا رکن بنا ہوں، ہمیشہ سر اٹھا کرسیاست کی ، مجھ پر کسی قسم کی مشکل نہیں ۔

اس سے قبل جب نواز شریف سے سوال کیا گیا کہ آپ کا 30 سالہ رفیق نے اس مُشکل وقت میں آپ کا ساتھ چھوڑ دیا ہے اس حوالے سے آپ کُچھ کہیں گے. میاں نواز شریف نے اس سوال کے جواب میں میاں نواز شریف نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے جواب دیا کہ آپ کس کی بات کر رہے ہیں .انھیں بتایا گیا کہ چوہدری نثار کی بات کی جا رہی ہے تو نواز شریف نے ناگواری کا تاثر ظاہر کیا اور بغیر کوئی جواب دئیے آگے بڑھ گئے . جب اُن سے دوبارہ سوال کیا گیا تو اُنھوں نے جواب دیا کہ اس سوال کا جواب بعد میں دیں گے ۔

قبل ازیں پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء اور سابق وفاقی وزیراطلاعات ونشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ چوہدری نثار نے پارٹی سے عملی طور پرعلیحدگی اختیار کرلی ہے ، مشکل وقت میں بھاگ جانا چوہدری نثارکی سیاست کا وطیرہ ہے کہ جب بھی پارٹی پرمشکل وقت آتا ہے ، وہ بھاگ جاتے ہیں۔ مارشل لاء کے وقت نوازشریف سمیت سب جیل میں گئے۔ انہوں نے کہا کہ چوہدری نثار 1999ء میں بھی بھاگ گئے تھے۔ اب بھی پارٹی پرمشکل وقت آیا توچوہدری نثار دوسری طرف کھڑے ہوگئے ہیں۔ چوہدری نثار ایک بار پھر نوازشریف کو مائنس کرنے والوں کے ساتھ کھڑے ہوگئے ہیں۔ اب پھرمشکل وقت میں نوازشریف کو مائنس کرنے والوں کے ساتھ کھڑے ہوگئے ہیں، نوازشریف کو گالی دینے کا مطلب انعام پانا ہے ۔انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چوہدری نثار نے پارٹی سے عملی طور پرعلیحدگی اختیار کرلی ہے ۔انہوں نے کہا کہ نثار اس وقت پارٹی قیادت کیخلاف زہراگل رہے ہیں۔ لیگی ارکان چوہدری نثار کو اپنا ساتھی نہیں سمجھتے۔ نوازشریف کی خوشامد کا مطلب خود کومشکل میں ڈالنا ہے ۔ نوازشریف کو گالی دینے کا مطلب انعام پانا ہے ۔ لیکن مسلم لیگ ن ایک بند مٹھی کی طرح متحد ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ماروی میمن اور انوشہ رحما ن نے پارٹی ٹکٹ کیلئے اپلائی ہی نہیں کیا ہے ۔نوازشریف کوسیاست سے باہر نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔انہوں نے واضح کیا کہ چوہدری نثار کو امید تھی کہ نوازشریف کے بعد پارٹی ان کے پاس آجائے گی۔

قبل ازیں چودھری نثار کا کہنا ہے کہ :"پچھلے تیس سال سے نواز شریف کے ساتھ ہوں آج جب میں اپنی راہیں جدا کر رہا ہوں تو میں سب کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میرے اوپر نواز شریف کا کوئی قرض نہیں ہے بلکہ میرے نواز شریف پر قرض ہیں ان پر ان ہی پارٹی پر میں اقتدار میں آیا تو میں نے کوئی انڈسٹریز نہیں لگائی اپنے خاندان کو فائدہ نہیں پہنچایا -اگر میں نے منہ کھولا تو پورے پاکستان کو سمجھ آئے گی مگر میرے سامنے ایک رکاوٹ آ گئی ہے کہ بیگم کلثوم نواز کی طبیعت کچھ زیادہ خراب ہو گئی ہے اللّٰہ ان کو صحت عطا فرمائے - میں 1985 سے قومی اسمبلی کا ممبر منتخب کیا جا رہا ہوں لیکن اس حلقے میں امیدوار ایک ٹیکسلا سے آ رہا ہے اور ایک کسی اور علاقے سے -نہ اس کا یہ حلقہ ہے اور نہ اس کا حلقہ ہے ایسے بھٹکے ہوئے لوگوں کو راستہ ضرور دکھا دینا منہ نہ لگانا -"

متعلقہ خبریں