مشرقی غوطہ کے طویل محاصرے کے دوران شامی فوج اور اس کی ہمنوا فورسز نے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا۔اقوام متحدہ

مشرقی غوطہ کے طویل محاصرے کے دوران شامی فوج اور اس کی ہمنوا فورسز نے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا۔اقوام متحدہ

مشرقی غوطہ کے طویل محاصرے کے دوران شامی فوج اور اس کی ہمنوا فورسز نے جنگی ... 22 جون 2018 (10:01) 10:01 AM, June 22, 2018

اقوام متحدہ کے تحقیق کاروں نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ شام کے علاقے مشرقی غوطہ کے طویل محاصرے کے دوران شامی فوج اور اس کی ہمنوا فورسز نے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا۔ اس دوران تقریبا 2.65 لاکھ افراد کو شدید بم باری اور "دانستہ طور قحط" کا نشانہ بنایا گیا۔شام کے حوالے سے بین تحقیقات کی آزاد بین الاقوامی کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں 140 انٹرویوز کے علاوہ تصاویر، وڈیوز، سیٹلائٹ کلپس اور میڈیکل ریکارڈز کا سہارا لیا گیا ہے۔

تحقیق کاروں کے مطابق اپوزیشن کے 20 ہزار کے قریب جنجگو جن میں بعض کا تعلق "دہشت گرد جماعتوں" سے ہے، وہ محصور علاقے غوطہ شرقیہ میں مورچہ بند ہو گئے اور انہوں نے دارالحکومت دمشق کو گولہ باری کا نشانہ بنایا۔ اس دوران ہونے والے حملوں کے نتیجے میں متعدد لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے۔ یہ کارروائیاں جنگی جرائم کی حد تک پہنچ گئیں۔

متعلقہ خبریں