چودھری نثارانا پرست قسم کے سیاستدان ہیں۔نواز شریف کے ساتھ چودھری نثارکےاختلافات بہت پرانے ہیں۔ جب جنرل راحیل شریف صاحب آرمی چیف تھے۔نواز شریف کے ساتھ چودھری نثارکےاختلافات کی کہانی پڑھئے

چودھری نثارانا پرست قسم کے سیاستدان ہیں۔نواز شریف کے ساتھ چودھری نثارکےاختلافات بہت پرانے ہیں۔ جب جنرل راحیل شریف صاحب آرمی چیف تھے۔نواز شریف کے ساتھ چودھری نثارکےاختلافات کی کہانی پڑھئے

چودھری نثارانا پرست قسم کے سیاستدان ہیں۔نواز شریف کے ساتھ چودھری ... 21 جون 2018 (22:31) 10:31 PM, June 21, 2018

سینیئر صحافی حامد میر نے پروگرام ''آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ "میں چودھری نثار پر تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ :"اگر یہ کہا جائے کہ چودھری نثار صاحب انا پرست قسم کے سیاستدان ہیں تو یہ غلط نہیں ہو گا ہو سکتا ہے ان کو میرے الفاظ اچھے نہ لگیں -کیونکہ اس وقت جو صورتحال ہے انہوں نے خود بھی اس کا ذکر کیا ہے جو بیگم کلثوم نواز کی حالت ہے جس وجہ سے وہ نہی بول پا رہے اور وہ کہہ رہے ہیں کہ میں آنے والے دنوں میں نواز شریف اور ان کی بیٹی کے خلاف بولوں گا نواز شریف کے ساتھ چودھری نثار صاحب کے اختلافات بہت پرانے ہیں جب مریم نواز شریف صاحبہ سیاست میں نہی آئیں تھیں تو اس وقت بھی چودھری نثار صاحب نے استعفیٰ دے دیا تھا اور نواز شریف صاحب نے وہ استعفیٰ قبول نہیں کیا تھا -اور پھر 2013 کے انتخابات میں بھی مریم نواز صاحبہ کی سیاست میں اتنی مداخلت نہیں تھی اس وقت چودھری نثار نے نواز شریف کو خط لکھا تھا اور وہ ابھی تک ان کے پاس محفوظ ہے -اور 2014 -2015میں جب چودھری نثار صاحب وزیر داخلہ تھے اور جنرل راحیل شریف صاحب آرمی چیف تھے اس وقت کی شاید کوئی باتیں چودھری نثار صاحب منظر عام پر لانا چاہتے ہوں لیکن اس میں صرف نواز شریف کا نقصان نہیں ہے اس میں ان کا بھی نقصان ہے کیونکہ بہت سی باتوں کے انہیں بھی جواب دینے پڑیں گے -

وہ کہتے ہیں کہ ڈان لیکس کے معاملے کو منظر عام پر آنا چاہیے تو اگر میرے پاس جو معلومات ہیں چودھری نثار صاحب کے پاس بھی وہ ہی معلومات ہیں تو میرا خیال ہے کہ نقصان صرف نواز شریف صاحب کا ہی نہیں ہو گا اس کے علاوہ مریم نواز اور چودھری نثار میں بھی اختلافات ہیں اور اگر اور پیچھے جائیں تو 1999 یا 2000 سے یہ اختلافات شروع ہوتے ہیں کلثوم نواز اور چودھری نثار صاحب کے درمیان اور اگر بات وہاں سے نکلے گی تو دور تک جائے گی اور کلثوم نواز صاحبہ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اس بات پر اپنی رائے کا اظہار کر سکیں -مجھے لگتا ہے کہ ان کے بہت سے گلے شکوے کلثوم نواز صاحبہ کے ساتھ بھی ہیں لیکن وہ ان کا اظہار نہیں کریں گے -چودھری نثار کی یہ سٹریٹجی لگتی ہے کہ انہوں نے نواز شریف کو بھی چیلنج کر دیا ہے اور ان کا سیاسی حریف بھی اچھا ہے -انہوں نے نہ ہی پی ٹی آئی کو جوائن کیا اور نہ ہی ن لیگ چھوڑی ان کی سٹریٹجی یہ ہے کہ وہ نواز شریف پر پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سے آگے جا کر حملے کریں گے تا کہ نواز شریف رد عمل دیں -جب وہ جواب دیں گے تو چودھری نثار صاحب اور باتیں سامنے لائیں گے اور میرا خیال ہے کہ ان کو صرف الیکشن تک ہی ان باتوں کا فائدہ ہوگا کیونکہ جب بات آگے چلے گی تو بہت سے سوال اٹھیں گے اور پھر سب ان سے سوال کریں گے اور جب وہ جواب دیں گے تو انہیں صرف نواز شریف کے رازوں سے پردہ نہیں اٹھانا پڑے گا انہیں اپنے بارے میں بھی بتانا پڑے گا کیونکہ وہ بھی اس سب میں برابر کے شریک ہیں اور انہیں بتانا پڑے گا کہ وہ رات کی تاریکی میں کس کس کے ساتھ ملنے جاتے تھے اور کس کس سازش کے تحت اسمبلیاں توڑواتے تھے تو نقصان صرف نواز شریف کا ہی نہیں ہو گا ان کا بھی ہو گا -اپنے آبائی حلقے میں ان کی پوزیشن مضبوط نظر آتی ہے لیکن دوسرے حلقے میں مقابلہ سخت ہو گا کیونکہ دونوں جگہوں پہ ان کا مقابلہ چودھری سرور صاحب کر رہے ہیں -تو اگر وہ ایک بھی سیٹ جیت جاتے ہیں قومی اسمبلی کی تو وہ اپنا ایک پریشر گروپ بنائیں گے اور پاکستان تحریک انصاف اور دوسری جماعتوں پر دباؤ ڈال کے قانون سازی کریں گے -"

متعلقہ خبریں