لوگوں کو پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس لگا لگا کر پاگل کردیا ہے۔بس بہت ہو گیا اب حساب دو۔جسٹس ثاقب نثار پھر میدان میں

لوگوں کو پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس لگا لگا کر پاگل کردیا ہے۔بس بہت ہو گیا اب حساب دو۔جسٹس ثاقب نثار پھر میدان میں

لوگوں کو پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس لگا لگا کر پاگل کردیا ہے۔بس بہت ہو گیا اب ... 21 جون 2018 (18:41) 6:41 PM, June 21, 2018

چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت اور ان پر اضافی ٹیکس کے معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ لوگوں کو پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس لگا لگا کر پاگل کردیا ہے۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین اور اضافی ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت کی۔چیف جسٹس نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کےتعین کے طریقہ کارپرسوالات اٹھادیے۔درآمدات کےعمل پرشکوک وشبہات کااظہارکردیا۔انھوں نےریمارکس دیےکہ گھربیٹھےبیٹھےقیمتیں بڑھادی جاتی ہیں،ساراحساب دینا ہوگا۔چیف جسٹس نے6ماہ کاریکارڈطلب کرلیا۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نےپیٹرولیم قیمتوں کےتعین کےطریقہ کارپرعدم اطمینان کااظہارکردیا۔چیف جسٹس کوقیمتوں کےتعین پرڈپٹی ایم ڈی پی ایس اویعقوب ستارنےبریفنگ دی تھی۔انھوں نےگزشتہ چھ ماہ کے آکشنز، برآمدات اور قیمتوں کےتعین کا ریکارڈ طلب کرلیا۔سماعت کے دوران ڈپٹی ایم ڈی پاکستان اسٹیٹ آئل یعقوب ستار نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مختلف ادارے پی ایس او کے 300 ارب روپے کے نادہندہ ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ان اداروں سے 300 ارب روپے واپس کیوں نہیں لے رہے؟ اس کا مطلب ہے آپ بینکوں سے قرض لے کر معاملات چلا رہے ہیں۔چیف جسٹس نےریمارکس دیےکہ گھربیٹھےبیٹھے،قیمتیں بڑھادی جاتی ہیں،ساراحساب دینا ہوگا۔ٹیکس لگالگاکرلوگوں کوپاگل کردیا ہے۔کس بات کاٹیکس ہےساراحساب دیناہوگا،پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کاعمل مشکوک لگتا ہے۔ چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دئیےکہ کس قانون اورطریقہ کارکےذریعے62.8روپےفی لیٹرکاتعین کیاگیا؟

یعقوب ستار نےبتایاکہ ہمارےمختلف اداروں پر3سوارب روپےواجب الاداہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ اخراجات کیلئےبینک سےقرضہ لیتےہیں؟کتناسوداداکرتےہیں؟۔ ڈپٹی ایم ڈی پی ایس اونےبتایاکہ بینکوں سے95ارب روپےقرضہ لےرکھاہے۔سالانہ سات ارب روپےسوداداکرتےہیں۔

چیف جسٹس نےسیکریٹری پیٹرولیم اورسیکریٹری وزارت توانائی کوجمعہ کےدن طلب کرلیا۔

متعلقہ خبریں