ایران میں در جنوں بلوچ خواتین کی آبرو ریزی، ایرانی صوبہ بلوچستان میں سخت غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔عوام سڑکوں پر آ گئے

ایران میں در جنوں بلوچ خواتین کی آبرو ریزی، ایرانی صوبہ بلوچستان میں سخت غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔عوام سڑکوں پر آ گئے

ایران میں در جنوں بلوچ خواتین کی آبرو ریزی، ایرانی صوبہ بلوچستان میں سخت غم ... 21 جون 2018 (11:41) 11:41 AM, June 21, 2018

ایران کے جنوب مشرقی صوبہ سیستان بلوچستان میں باسیج ملیشیا سے وابستہ اہلکاروں کے ہاتھوں 41 بلوچ عورتوں کی مبینہ آبرو ریزی کے واقعے کے بعد ملک بھر بالخصوص صوبہ بلوچستان میں سخت غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق مظاہرہ کرنے والی خواتین نے آبرو ریزی کے مجرم کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کرنے اور اسے عبرت ناک سزا اور اس واقعے کی جامع اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئےکہا کہ اس میں ملوث دیگر عناصر کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اکتالیس خواتین کی عصمت ریزی کے واقعے کے خلاف سیستان بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت ایرانشھر میں گورنر ہاؤس کے باہر سیکڑوں خواتین نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ایرانی وزیر داخلہ عبدالرضا رحمانی فضلی نے درجنوں خواتین کی عصمت دری کے واقعے کی فوری تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی صوبہ بلوچستان میں پیش آنے والے اس واقعے نے عوام وخواص کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ خبر رساں ادارے ’فارس‘ کے مطابق ایرانی وزیر داخلہ نے معاشی استحصال زدہ صوبے کے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ عصمت ریزی کے واقعے کی بناء پر اشتعال انگیزی سے گریز کریں۔ ایران کی ایک دوسری خبر رساں ایجنسی ’ایلنا‘ کے مطابق آبرو ریزی کے واقعے میں ملوث ہونے کے شبے میں تین افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔درایں اثناء ایرانی پارلیمنٹ میں خواتین سے متعلق کمیٹی کی چیئرپرسن طیبہ سیاوشی نے کہا ہے کہ ذرائع سے پتا چلا ہے کہ آبرو ریزی کا ملزم ایک با اثر شخص ہے اور اسے اعلیٰ حکام کی حمایت حاصل ہے۔

متعلقہ خبریں