ترک فضائیہ نے کرد باغیوں پر قیامت ڈھا دی۔کئی ہلاک

ترک فضائیہ نے کرد باغیوں پر قیامت ڈھا دی۔کئی ہلاک

ترک فضائیہ نے کرد باغیوں پر قیامت ڈھا دی۔کئی ہلاک 21 جون 2018 (10:00) 10:00 AM, June 21, 2018

ترکی کی فوج کی جانب سے شمالی عراق کے علاقوں افاشین، باسیان اور سینات ھافتانین میں بدھ کے روز کی گئی فضائی کارروائیوں میں کم سے کم 10 کرد جنگجو ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

ترک فوج کی جانب سے ’ٹوئٹر‘ پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج نے شمالی عراق میں کرد دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کی متعدد پناہ گاہوں اور ان کے اسلحہ کے ذخائر کو تباہ کردیا گیا۔

قبل ازیں ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ترکی کے لڑاکا طیاروں نے عراقی پہاڑی سلسلے قندیل میں کردستان ورکرز پارٹی کے اجلاس کو نشانہ بنایا۔ ترکی کا دعویٰ ہے کہ اجلاس میں غیر قانونی کرد پارٹی کے سرکردہ عسکری رہنما شریک تھے۔ ترکی نے ایران اور عراق کی سرحد سے ملنے والے شمالی عراق میں کردستان ورکرز پارٹی کے قندیل پہاڑی سلسلے میں ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ انقرہ کا خیال ہے کہ قندیل پہاڑی سلسلے میں کردستان پارٹی کے سرکردہ عسکری رہنما قیام پذیر ہیں۔ترک حکومت کا مزید کہنا ہے کہ شمالی عراق سے تقریباً تیس کلومیٹر کے فاصلے پر قندیل پہاڑیوں کے قریب ترک فوجی دستے عراق کے اندر تعینات ہیں۔چینل 7 کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ایردوآن کا کہنا تھا کہ ان کے لڑاکا طیاروں نے قندیل پہاڑی سلسلے میں کردستان ورکرز پارٹی کے اہم اجلاس جس میں سرکردہ عسکری رہنما بھی شریک تھے کو نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ترک فوج اس فضائی حملے میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان سے متعلق تفصیلات چند گھنٹوں بعد جاری کرے گی۔انھوں نے مزید کہا کہ تازہ ترین کارروائی میں ہم نے کردستان پارٹی کے اہم اجلاس کو نشانہ بنایا ہے۔ ابھی ہمیں کارروائی کے نتائج سے متعلق معلومات نہیں ملیں، تاہم یہ بات یقینی ہے کہ ہم نےانہیں نشانہ بنایا ہے۔

یاد رہیکہ ترکی کے وزیر دفاع نور الدین جانکلی کا کہنا ہے کہ جب تک تمام "دہشت گرد جماعتوں" کا خاتمہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک ترکی کی فورسز شمالی عراق میں باقی رہیں گی۔ انہوں نے یہ بات منگل کے روز ترک نیوز ایجنسی اناضول کو دیے گئے انٹرویو میں کہی۔جانکلی کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترک حکومت کی جانب سے قندیل کے پہاڑوں میں موجود مسلح کُردوں کے خلاف فوجی کارروائی کے حوالے سے انتباہات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ترک وزیر دفاع کے مطابق ان کے ملک نے ایران کے ساتھ قندیل میں ممکنہ فوجی آپریشن پر عمل درامد کی پیش کش کی ہے۔ ایران نے اس حملے کے لیے اپنی سپورٹ کا اظہار کیا ہے۔جانکلی نے بتایا کہ ترکی آپریشن کے حوالے سے بغداد کے ساتھ مکمل طور پر متفق ہے۔

متعلقہ خبریں