مسجد حرام میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو ٹھنڈک پہنچانے، انہیں تازہ ہوا مہیا کرنے اور گرمی سے بچانے کا کیا طریقہ ہے۔؟جانئے

مسجد حرام میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو ٹھنڈک پہنچانے، انہیں تازہ ہوا مہیا کرنے اور گرمی سے بچانے کا کیا طریقہ ہے۔؟جانئے

مسجد حرام میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو ٹھنڈک پہنچانے، انہیں تازہ ہوا مہیا ... 21 اگست 2018 (14:27) 2:27 PM, August 21, 2018

حج اور عمرہ کے سیزن میں جب لاکھوں کی تعداد میں عازمین حج اور معتمرین بیت اللہ کا قصد کرتے ہیں اور مسجد حرام میں جمع ہوتے ہیں تو یہ سوال اکثر لوگوں کے ذہن میں آتا ہے کہ سخت گرمی کے موسم میں مسجد حرام میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو ٹھنڈک پہنچانے، انہیں تازہ ہوا مہیا کرنے اور گرمی سے بچانے کا کیا طریقہ ہے۔ سعودی حکومت ایسا کیا کرتی ہے کہ مسجد حرام میں اتنی بڑی تعداد میں عازمین حج وعمرہ کو گرمی نہیں لگتی۔

حج کے موقع پر سامنے آنے والے اس سوال کا جواب تلاش کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بیت اللہ کے زائرین اور ضیوف الرحمان کے آرام وراحت کی حکومتی مساعی میں مسجد حرام کو ٹھنڈا رکھنا اوراللہ کے مہمانوں کو سخت گرمی سے بچانا بھی شامل ہے۔ مسجد حرام کو اندر سے ٹھندا رکھنے کے لیے قریبا ایک لاکھ 59 ہزار ٹن ایئرکنڈیشن استعمال کیے جاتے ہیں۔ اگر ایئرکنڈیشن کی اتنی بڑی مقدار کو متوسط حجم کے گھروں میں تقسیم کیا جائے تو یہ ایئرکنڈیشن 15 ہزاروں گھروں کے لیے کافی ہوں گے۔ مسجد حرام میں نصب ایئرکنڈیشنز کو دو الگ الگ پاور اسٹیشنوں سے جوڑا گیا ہے۔

مسجد حرام میں گرمی سے بچانے کے لیے دو الگ الگ ایئرکنڈیشین پاور سسٹم نصب ہیں۔ اس کا شمار دنیا کے دوسرے بڑے ایئرکنڈیشن میں ہوتا ہے۔ مسجد حرام کا پہلا بڑا ایئرکنڈیشن حرم مکی سے 900 میٹر کی مسافت پر نصب ہے اسے ’الشامیہ‘ اسٹیشن‘ بھی کہا جات ہے جو مسجد میں لگے 1 لاکھ 20 ہزار ٹن ایئرکنڈیشن کو بجلی مہیا کرتا ہے۔ دوسرا پاور اسٹیشن 500 میٹر کی مسافت پر ہے جو 39 ہزار ٹن ایئرکنڈیشن چلاتا ہے۔یہ دونوں اسٹیشن اور کولنگ سسٹم اور مسجد الحرام کے اندر ہوا مہیا کرنے کی یونٹوں پرمشتمل ہیں۔ انہیں خاص طورپر مسجد حرام کے اندر کے ماحول کو ٹھنڈہ رکھنے کے لیے ہی تیار کیا گیا ہے۔ ان کی نگرانی کی ذمہ داری آل سالم جونسن کنٹرولزکے پاس ہے۔

ان دونوں ایئرکنڈیشن اسٹیشنوں کو ایک زیرزمین سرنگ کے ذریعے مسجد حرام سے ملایا گیا ہے۔ الشامیہ اسٹیشن کو مسجدحرام سے ملانے والی سرنگ کا قطر 12 فٹ اور گہرائی 10 میٹر ہے۔دوسرے ایئرکنڈیشن مرکز کو اجیاد کا نام دیا جاتا ہے۔ اس کی سرنگ کا قطر 8 فٹ اور گہرائی 10 فٹ ہے۔ ان دونوں اسٹیشنوں اور مسجد حرام کے درمیان دو دو پائپ لائنیں نصب ہیں۔ ایک پاپ لاین کے ذریعے مسجد حرام کو ٹھنڈہ پانی مہیا کیا جاتا اور دوسری کے ذریعے مسجد سے گرم پانی اور ہوا کو باہر نکالا جاتا ہے۔ یہ دونوں اسٹیشن پانی کو چار سے پانچ درجے سینٹی گریڈ تک ٹھنڈہ کرنے کے بعد مسجد حرام کو پہنچاتے ہیں۔

دونوں ایئرکنڈیشن اسٹیشنز کی مرمت کے لیے راستے بنائے گئے ہیں۔ حج اور عمرہ کے سیزن میں زائرین کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے ان اسٹیشینوں کو چالو رکھنےپر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ پروجیکٹ کے کنٹرولر اور آل سالم جونس کنٹرولز یورک کے ڈاکٹر مہند الشیخ کا کہنا ہے کہ مسجد حرام کو ٹھندہ رکھنے کے ایئرکنڈیشن سسٹم کو ہمہ وقت چالو رکھنے کے لیے 85 انجینیروں اور ٹیکنیشنز پر مشتمل ٹیم کام کرتی ہے۔ یہ ٹیم چوبیس گھنٹے سرگرم رہتی ہے۔ ماہ صیام میں اس کی تعداد میں 25 فی صد اضافہ کردیا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں