مرزا اسد اللہ خان غالب: یہ لاش بے کفن اسدؔ خستہ جاں کی ہے ........ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

مرزا اسد اللہ خان غالب: یہ لاش بے کفن اسدؔ خستہ جاں کی ہے ........ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

مرزا اسد اللہ خان غالب: یہ لاش بے کفن اسدؔ خستہ جاں کی ہے ........ حق مغفرت کرے عجب ... 20 جون 2018 (17:28) 5:28 PM, June 20, 2018

دھمکی میں مر گیا جو نہ باب نبرد تھا

عشق نبرد پیشہ طلب گار مرد تھا

تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا

اڑنے سے پیشتر بھی مرا رنگ زرد تھا

تالیف نسخہ ہائے وفا کر رہا تھا میں

مجموعۂ خیال ابھی فرد فرد تھا

دل تا جگر کہ ساحل دریائے خوں ہے اب

اس رہ گزر میں جلوۂ گل آگے گرد تھا

جاتی ہے کوئی کشمکش اندوہ عشق کی

دل بھی اگر گیا تو وہی دل کا درد تھا

احباب چارہ سازی وحشت نہ کر سکے

زنداں میں بھی خیال بیاباں نورد تھا

یہ لاش بے کفن اسدؔ خستہ جاں کی ہے

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

متعلقہ خبریں