خیبر پختونخواہ میں تاریخ میں پہلی دفعہ غیر مسلم اقلیت سے تعلق رکھنے والی خاتون کو وزارت مذہبی امور سونپ دیا گیا۔

خیبر پختونخواہ میں تاریخ میں پہلی دفعہ غیر مسلم اقلیت سے تعلق رکھنے والی خاتون کو وزارت مذہبی امور سونپ دیا گیا۔

خیبر پختونخواہ میں تاریخ میں پہلی دفعہ غیر مسلم اقلیت سے تعلق رکھنے والی ... 20 جون 2018 (13:13) 1:13 PM, June 20, 2018

نگران سیٹ اپ میں ڈاکٹر سارہ صفدر کو مذہبی امور، سماجی بہبود، ابتدائی و ثانوی اور اعلیٰ تعلیم کے قلمدان سونپے گئے ہیں۔ صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی اقلیتی فرد کو مذہبی امور کا عہدہ دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر سارہ صفدرنے 22ستمبر1951کو لاہورکے مسیحی خاندان میں آنکھ کھولی جس کے بعد انہوں نے سوشل سائنسز میں ماسٹرز کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی۔ انہوں نے 1976میں پشاور کے شہری صفدر مسیح سے شادی کر لی جس کے بعد وہ پشاور منتقل ہو گئیں۔ ڈاکٹر سارہ صفدر نے 1977میں جامعہ پشاور میں بطور لیکچرر اپنی خدمات سرانجام دینا شروع کر دیں اور1981 میں پی ایچ ڈی کی ہے جس میں ان کی تحقیق کا موضوع ''پختون قبائل میں خواتین کی شادیاں اور ان کی وراثت'' تھا جس میں انہوں نے مہمند قبیلے پر تحقیق کی تھی۔

یاد رہیکہ ڈاکٹر سارہ صفدر سے قبل ڈاکٹر سورن سنگھ اور بہاری لال بھی خیبر پختونخوا کابینہ کے اراکین رہ چکے ہیں۔ سردار سورن سنگھ سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے معاون خصوصی برائے اقلیتی اموررہے جبکہ 1993کے انتخابات کے نتیجے میں ایم پی اے بننے والے بہاری لال، آفتاب احمد خان شیر پائو کی کابینہ میں اقلیتی امورکے وزیر تھے تاہم ڈاکٹر سارہ صفدر صوبائی کابینہ کی رکن بننے والی پہلی خاتون ہیں۔

متعلقہ خبریں