ایران بدترین کھلاڑی تھا اور اب بھی بدتر پالیسی پر عمل پیرا ہے، ڈان کوٹز

ایران بدترین کھلاڑی تھا اور اب بھی بدتر پالیسی پر عمل پیرا ہے، ڈان کوٹز

ایران بدترین کھلاڑی تھا اور اب بھی بدتر پالیسی پر عمل پیرا ہے، ڈان کوٹز 20 جولائی 2018 (20:53) 8:53 PM, July 20, 2018

امریکا کی نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر ڈان کوٹز نے ایران کو عالمی اکھاڑے کا ’بدترین کھلاڑی‘ قرار دیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ روس کے پاس ایران کو شام سے نکال باہر کرنے کا عزم ہے اور نہ ہی اس میں اتنی صلاحیت ہے۔

غیر ملکی میڈیا کیمطابق کے مطابق امریکی عہدیدار نے ریاست کولو راڈو میں ’اسپن‘ سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ایران خطے میں مسلسل تخریبی کردار ادا کر رہا ہے اور عالمی سطح پر تہران کو دی گئی بار بار وارننگ کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ امریکا ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے سے باہر ہوگیا ہے مگر اس کے باوجود تہران کی ہڈ دھرمی میں کوئی فرق نہیں آیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران سےسمجھوتے سے قبل کہا جاتا تھا کہ جوہری معاہدے کے بعد ایران بدل جائے گا۔ تہران کے ساتھ ہمارے تعلقات میں مثبت پیش رفت ہوگی۔ ہم ایرانیوں کے ساتھ بیٹھ کر حل طلب مسائل پر بات کرسکیں گے اور مشترکہ تعاون کی مساعی کے قابل ہوں گے، مگر ایسا کچھ نہیں ہوسکا۔عہدیدار کا مزید کہنا تحا کہ ہم نے نوٹ کیا کہ ایران دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ خطے میں ایران کی تخریبی پالیسی میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ تہران کا میزائل پروگرام بھی مسلسل وسعت اختیار کررہا ہے۔ شام، یمن اور دوسرے ممالک میں ایران کی عسکری مداخلت بھی جاری ہے۔ ہمیں یقین ہوگیا کہ ایران بدترین کھلاڑی تھا اور اب بھی بدتر پالیسی پر عمل پیرا ہے‘۔ڈان کوٹز نے ایران کی شام کے جنوب مغربی علاقوں میں موجودگی کو حساس قرار دیا اور کہا کہ کئی ممالک ایران کی شام میں موجودگی سے تہران اور دوسرے ممالک کے درمیان لڑائی چھڑ سکتی ہے۔ڈان کوٹز اک مزید کہنا تھا کہ موجودہ مرحلہ امریکا کے لیے زیادہ تشویش کا باعث ہے کیونکہ اسرائیل نے واضح کردیا ہے کہ اس کی سرحد کے قریب ایران کی موجودگی قابل برادشت نہیں ہے اور ہم تہران کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں