پولیس چائلڈ مافیا اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف خفیہ کارروائیوں کے لیے بچوں کو بہ طور ایجنٹ استعمال کرتی رہی ہے۔لارڈ کونسل برطانیہ

پولیس چائلڈ مافیا اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف خفیہ کارروائیوں کے لیے بچوں کو بہ طور ایجنٹ استعمال کرتی رہی ہے۔لارڈ کونسل برطانیہ

پولیس چائلڈ مافیا اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف خفیہ کارروائیوں کے لیے بچوں ... 20 جولائی 2018 (20:33) 8:33 PM, July 20, 2018

برطانیہ کی لارڈ کونسل کی جانب سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پولیس چائلڈ مافیا اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف خفیہ کارروائیوں کے لیے بچوں کو بہ طور ایجنٹ استعمال کرتی رہی ہے۔

اخبار ’گارڈین‘ کے مطابق ’خفیہ انٹیلی جنس ہیومن ریسورسز‘ کےعنوان سے پولیس کے پروگرام کا انکشاف ہوا ہے جس میں بتایا گیا ہے پولیس بعض خفیہ کارروائیوں کے لیے 16 سال یا اس سے کم عمر کے بچوں کو استعمال کرتی رہی ہے۔ بچوں سے ایک ماہ سے چار ماہ تک خفیہ کارروائیوں کے لیے معاونت لی جاتی۔ یہ انکشاف بچوں کو دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کئے جانے کے وزارت داخلہ کے مطالبے پر کیا گیا ہے۔رپورٹ تیار کرنے والے آئینی تحقیقاتی کمیٹی کے چیئرمین لارڈ ڈیوڈ بریفگیم کی طرف سے پولیس کے بچوں کو انٹیلی جنس کارروائیوں میں استعمال کے پروگرام پر کڑی تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بچوں کو زیادہ عرصے تک خفیہ کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے سے ان کے ذہن اور جسمانی صحت پر پڑنے والے مضر اثرات باعث تشویش ہیں۔جمعرات کو سامنےآنے والی اس رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا برطانوی پولیس اور انٹیلی جنس ادارے جاسوسی کے لیے کتنی بار اور کہاں کہاں دہشت گردوں کے خلاف بچوں کو استعمال کرتے رہے ہیں۔ تاہم وزارت داخلہ کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ بچوں کو ایسی خفیہ کارروائیوں میں استعمال کرنے کے واقعات زیادہ نہیں۔وزارت داخلہ نے بچوں کو خفیہ کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کے اقدام کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ بچوں کے ذریعے مختلف مافیاؤں سے متعلق ’بے مثل‘ معلومات جمع کی گئی ہیں۔برطانوی پولیس کے ایک سابق افسر نیل ووڈز نے ’گارڈین‘ کو بتایا کہ انہوں نے ایک منشیات مافیا کے خلاف تحقیق کے دوران بچوں کی مدد حاصل کی تھی۔ وہ جاتنے تھے کہ منشیات مافیا کا آسان شکار بچے ہیں۔ اس لیے انہوں نے بچوں کی مدد سے ان جرائم پیشہ عناصر کے بارے میں معلومات جمع کی تھیں۔

متعلقہ خبریں