پرویز مشرف کو الیکشن کمیشن نے مایوس کر دیا

پرویز مشرف کو الیکشن کمیشن نے مایوس کر دیا

پرویز مشرف کو الیکشن کمیشن نے مایوس کر دیا 19 جون 2018 (18:16) 6:16 PM, June 19, 2018

سابق صدر و آرمی چیف پرویز مشرف کے این اے ایک چترال سے کاغذات نامزدگی کو مسترد کردیا گیا ہے۔سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے این اے 1 چترال کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے تھے جس کو ریٹرننگ افسر نے مسترد کردیا جب کہ اے پی ایم ایل کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر امجد کے کاغذات نامزدگی این اے 1 کیلئے منظور کرلیے گئے ہیں۔آل پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر امجد نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پرویز مشرف نااہل ہونے کی وجہ سے الیکشن میں حصہ نہیں لے سکیں گے تاہم ہم انتخابات میں بھرپور حصہ لیں گے اور اس بار کوئی بائیکاٹ نہیں ہوگا۔ ڈاکٹر امجد کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف واپس آنا چاہتے تھے مگر راہ میں رکاوٹ پیدا کی جا رہی ہے، پرویز مشرف کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کردیا جاتا ہے تاہم پرویز مشرف انتخابات سے قبل ملک واپس آسکتے ہیں۔

واضح رہیکہسپریم کورٹ نے پرویز مشرف کیلئے عام انتخابات 2018 میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا مشروط عدالتی حکم واپس لےلیا جس کے بعد مشرف انتخابی دوڑسے باہرہوگئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ پرویز مشرف سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کے مؤکل کب آرہے ہیں۔پرویز مشرف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل وطن واپس نہیں آرہے ہیں، وکیل کا کہنا تھا کہ مشرف آنا چاہتے ہیں لیکن حالات اور چھٹیوں کی وجہ سے نہیں آسکتے۔سابق فوجی صدر کے وکیل نے کہا کہ ان کی پرویز مشرف سے بات ہوئی ہے، وہ آنا چاہتے ہیں لیکن انہوں نے عدالت میں پیش ہونے کے لیے مزید مہلت مانگی ہے۔وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل پاکستان آنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاہم انھوں نے استدعا کی ہے کہ عدالت پاکستان آنے میں مزید مہلت دے۔سابق صدرپرویزمشرف الیکشن کی دوڑ سے باہرہوگئے۔ وکیل نے سپریم کورٹ میں جواب دیا کہ پرویزمشرف پاکستان نہیں آرہے جس کے بعد چیف جسٹس نے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا عبوری حکم واپس لے لیا۔گزشتہ روزسپریم کورٹ نے سنگین غداری کیس میں سابق صدرکو آج 14 جون کو عدالت میں دوپہر 2 بجے تک پیش ہونے کی آخری مہلت دی تھی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ سابق صدر واپس نہ آئے تو کاغذات ِنامزدگی کی پڑتال نہیں ہونے دیں گے۔یاد رہیکہ سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کو 13 جون کو طلب کیا تھا۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سابق صدر پرویز مشرف کی تاحیات نااہلی کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ پرویز مشرف پاکستان تو آئیں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ اور پاکستان میں آمد کے بعد، ان کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونا ہوگا۔ سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کی تا حیات نا اہلی کےخلاف درخواست کی سماعت میں سابق صدر کو طلب کر لیا تھا ،عدالت نے پرویزمشرف کے کاغذات نامزدگی بھی وصول کرنے کا حکم دیا تھا۔واضح رہیکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے پرویز مشرف کے ٹرائل کیلئے دو روز میں خصوصی عدالت قائم کرنے کا حکم دیتے ہوئے نادرا کو سابق صدر پرویز مشرف کے بلاک کئے گئے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کھولنے کی ہدایت کی تھی ۔

متعلقہ خبریں