احمد فراز :یوں پھر رہا ہے کانچ کا پیکر لیے ہوئے..... غافل کو یہ گماں ہے کہ پتھر نہ آئے گا

احمد فراز :یوں پھر رہا ہے کانچ کا پیکر لیے ہوئے..... غافل کو یہ گماں ہے کہ پتھر نہ آئے گا

احمد فراز :یوں پھر رہا ہے کانچ کا پیکر لیے ہوئے..... غافل کو یہ گماں ہے کہ پتھر ... 19 جولائی 2018 (01:06) 1:06 AM, July 19, 2018

جو بھی درون دل ہے وہ باہر نہ آئے گا

اب آگہی کا زہر زباں پر نہ آئے گا

اب کے بچھڑ کے اس کو ندامت تھی اس قدر

جی چاہتا بھی ہو تو پلٹ کر نہ آئے گا

یوں پھر رہا ہے کانچ کا پیکر لیے ہوئے

غافل کو یہ گماں ہے کہ پتھر نہ آئے گا

پھر بو رہا ہوں آج انہیں ساحلوں پہ پھول

پھر جیسے موج میں یہ سمندر نہ آئے گا

میں جاں بلب ہوں ترک تعلق کے زہر سے

وہ مطمئن کہ حرف تو اس پر نہ آئے گا

متعلقہ خبریں