احمد فراز:غیرت عشق تو مانع تھی مگر میں نے فرازؔ...... دوست کا طوق سر محفل اعدا پہنا

احمد فراز:غیرت عشق تو مانع تھی مگر میں نے فرازؔ...... دوست کا طوق سر محفل اعدا پہنا

احمد فراز:غیرت عشق تو مانع تھی مگر میں نے فرازؔ...... دوست کا طوق سر محفل اعدا ... 19 جولائی 2018 (01:01) 1:01 AM, July 19, 2018

جسم شعلہ ہے جبھی جامۂ سادہ پہنا

میرے سورج نے بھی بادل کا لبادہ پہنا

سلوٹیں ہیں مرے چہرے پہ تو حیرت کیوں ہے

زندگی نے مجھے کچھ تم سے زیادہ پہنا

خواہشیں یوں ہی برہنہ ہوں تو جل بجھتی ہیں

اپنی چاہت کو کبھی کوئی ارادہ پہنا

یار خوش ہیں کہ انہیں جامۂ احرام ملا

لوگ ہنستے ہیں کہ قامت سے زیادہ پہنا

یار پیماں شکن آئے اگر اب کے تو اسے

کوئی زنجیر وفا اے شب وعدہ پہنا

غیرت عشق تو مانع تھی مگر میں نے فراز ؔ

دوست کا طوق سر محفل اعدا پہنا

متعلقہ خبریں