احمد فراز:اک تم ہی فرازؔ نہ تھے تنہا اب کے تو بلا واجب آئی ...اک بھیڑ لگی تھی مقتل میں ہر درد کا مارا اس دن تھا

احمد فراز:اک تم ہی فرازؔ نہ تھے تنہا اب کے تو بلا واجب آئی ...اک بھیڑ لگی تھی مقتل میں ہر درد کا مارا اس دن تھا

احمد فراز:اک تم ہی فرازؔ نہ تھے تنہا اب کے تو بلا واجب آئی ...اک بھیڑ لگی تھی ... 19 جولائی 2018 (00:59) 12:59 AM, July 19, 2018

کب یار نے رخت سفر باندھا کب ضبط کا پارا اس دن تھا

ہر درد نے دل کو سہلایا کیا حال ہمارا اس دن تھا

جب خواب ہوئیں اس کی آنکھیں جب دھند ہوا اس کا چہرہ

ہر اشک ستارہ اس شب تھا ہر زخم انگارہ اس دن تھا

سب یاروں کے ہوتے سوتے ہم کس سے گلے مل کر روتے

کب گلیاں اپنی گلیاں تھیں کب شہر ہمارا اس دن تھا

جب تجھ سے ذرا غافل ٹھہرے ہر یاد نے دل پر دستک دی

جب لب پہ تمہارا نام نہ تھا ہر دکھ نے پکارا اس دن تھا

اک تم ہی فراز ؔ نہ تھے تنہا اب کے تو بلا واجب آئی

اک بھیڑ لگی تھی مقتل میں ہر درد کا مارا اس دن تھا

متعلقہ خبریں