احمد فراز:اب یاد نہیں مجھ کو فرازؔ اپنا بھی پیکر ...........جس روز سے بکھرا ہوں سمٹ کر نہیں دیکھا

احمد فراز:اب یاد نہیں مجھ کو فرازؔ اپنا بھی پیکر ...........جس روز سے بکھرا ہوں سمٹ کر نہیں دیکھا

احمد فراز:اب یاد نہیں مجھ کو فرازؔ اپنا بھی پیکر ...........جس روز سے بکھرا ہوں ... 19 جولائی 2018 (00:55) 12:55 AM, July 19, 2018

خود کو ترے معیار سے گھٹ کر نہیں دیکھا

جو چھوڑ گیا اس کو پلٹ کر نہیں دیکھا

میری طرح تو نے شب ہجراں نہیں کاٹی

میری طرح اس تیغ پہ کٹ کر نہیں دیکھا

تو دشنۂ نفرت ہی کو لہراتا رہا ہے

تو نے کبھی دشمن سے لپٹ کر نہیں دیکھا

تھے کوچۂ جاناں سے پرے بھی کئی منظر

دل نے کبھی اس راہ سے ہٹ کر نہیں دیکھا

اب یاد نہیں مجھ کو فراز ؔ اپنا بھی پیکر

جس روز سے بکھرا ہوں سمٹ کر نہیں دیکھا

متعلقہ خبریں