احمد فراز:ایک آنسو تھا کہ دریائے ندامت تھا فرازؔ ............دل سے بیباک شناور کو ڈبویا کیسا

احمد فراز:ایک آنسو تھا کہ دریائے ندامت تھا فرازؔ ............دل سے بیباک شناور کو ڈبویا کیسا

احمد فراز:ایک آنسو تھا کہ دریائے ندامت تھا فرازؔ ............دل سے بیباک شناور کو ... 19 جولائی 2018 (00:51) 12:51 AM, July 19, 2018

دل منافق تھا شب ہجر میں سویا کیسا

اور جب تجھ سے ملا ٹوٹ کے رویا کیسا

زندگی میں بھی غزل ہی کا قرینہ رکھا

خواب در خواب ترے غم کو پرویا کیسا

اب تو چہروں پہ بھی کتبوں کا گماں ہوتا ہے

آنکھیں پتھرائی ہوئی ہیں لب گویا کیسا

دیکھ اب قرب کا موسم بھی نہ سرسبز لگے

ہجر ہی ہجر مراسم میں سمویا کیسا

ایک آنسو تھا کہ دریائے ندامت تھا فراز ؔ

دل سے بیباک شناور کو ڈبویا کیسا

متعلقہ خبریں