پر وین شا کر:اس کو بھی ہم ترے کوچے میں گزار آئے ہیں---زندگی میں وہ جو لمحہ تھا سنورنے والا

پر وین شا کر:اس کو بھی ہم ترے کوچے میں گزار آئے ہیں---زندگی میں وہ جو لمحہ تھا سنورنے والا

پر وین شا کر:اس کو بھی ہم ترے کوچے میں گزار آئے ہیں---زندگی میں وہ جو لمحہ تھا ... 18 مئی 2018 (16:03) 4:03 PM, May 18, 2018

کیا کرے میری مسیحائی بھی کرنے والا

زخم ہی یہ مجھے لگتا نہیں بھرنے والا

زندگی سے کسی سمجھوتے کے با وصف اب تک

یاد آتا ہے کوئی مارنے مرنے والا

اس کو بھی ہم ترے کوچے میں گزار آئے ہیں

زندگی میں وہ جو لمحہ تھا سنورنے والا

اس کا انداز سخن سب سے جدا تھا شاید

بات لگتی ہوئی لہجہ وہ مکرنے والا

شام ہونے کو ہے اور آنکھ میں اک خواب نہیں

کوئی اس گھر میں نہیں روشنی کرنے والا

دسترس میں ہیں عناصر کے ارادے کس کے

سو بکھر کے ہی رہا کوئی بکھرنے والا

اسی امید پہ ہر شام بجھائے ہیں چراغ

ایک تارا ہے سر بام ابھرنے والا