نا صر کاظمی :بالوں میں تھی رات کی رانی------------------ماتھے پر دن کا راجا تھا

نا صر کاظمی :بالوں میں تھی رات کی رانی------------------ماتھے پر دن کا راجا تھا

نا صر کاظمی :بالوں میں تھی رات کی رانی------------------ماتھے پر دن کا راجا تھا 18 مئی 2018 (15:47) 3:47 PM, May 18, 2018

پچھلے پہر کا سناٹا تھا

تارا تارا جاگ رہا تھا

پتھر کی دیوار سے لگ کر

آئینہ تجھے دیکھ رہا تھا

بالوں میں تھی رات کی رانی

ماتھے پر دن کا راجا تھا

اک رخسار پہ زلف گری تھی

اک رخسار پہ چاند کھلا تھا

ٹھوڑی کے جگمگ شیشے میں

ہونٹوں کا سایا پڑتا تھا

چندر کرن سی انگلی انگلی

ناخن ناخن ہیرا سا تھا

اک پاؤں میں پھول سی جوتی

اک پاؤں سارا ننگا تھا

تیرے آگے شمع دھری تھی

شمع کے آگے اک سایا تھا

تیرے سائے کی لہروں کو

میرا سایا کاٹ رہا تھا

کالے پتھر کی سیڑھی پر

نرگس کا اک پھول کھلا تھا