جِگر مُرادآبادی‎:مل گئی عشق میں ایذا طلبی سے راحت

جِگر مُرادآبادی‎:مل گئی عشق میں ایذا طلبی سے راحت

جِگر مُرادآبادی‎:مل گئی عشق میں ایذا طلبی سے راحت 18 مئی 2018 (12:43) 12:43 PM, May 18, 2018

آج کیا حال ہے یارب سر محفل میرا

کہ نکالے لیے جاتا ہے کوئی دل میرا

سوز غم دیکھ نہ برباد ہو حاصل میرا

دل کی تصویر ہے ہر آئینۂ دل میرا

صبح تک ہجر میں کیا جانیے کیا ہوتا ہے

شام ہی سے مرے قابو میں نہیں دل میرا

مل گئی عشق میں ایذا طلبی سے راحت

غم ہے اب جان مری درد ہے اب دل میرا

پایا جاتا ہے تری شوخی رفتار کا رنگ

کاش پہلو میں دھڑکتا ہی رہے دل میرا

ہائے اس مرد کی قسمت جو ہوا دل کا شریک

ہائے اس دل کا مقدر جو بنا دل میرا

کچھ کھٹکتا تو ہے پہلو میں مرے رہ رہ کر

اب خدا جانے تری یاد ہے یا دل میرا