الطاف حسین حا لی: عمر شاید نہ کرے آج وفا-کاٹنا ہے شب تنہائی کا

الطاف حسین حا لی: عمر شاید نہ کرے آج وفا-کاٹنا ہے شب تنہائی کا

الطاف حسین حا لی: عمر شاید نہ کرے آج وفا-کاٹنا ہے شب تنہائی کا 18 مئی 2018 (12:36) 12:36 PM, May 18, 2018

رنج اور رنج بھی تنہائی کا

وقت پہنچا مری رسوائی کا

عمر شاید نہ کرے آج وفا

کاٹنا ہے شب تنہائی کا

تم نے کیوں وصل میں پہلو بدلا

کس کو دعویٰ ہے شکیبائی کا

ایک دن راہ پہ جا پہنچے ہم

شوق تھا بادیہ پیمائی کا

اس سے نادان ہی بن کر ملئے

کچھ اجارہ نہیں دانائی کا

سات پردوں میں نہیں ٹھہرتی آنکھ

حوصلہ کیا ہے تماشائی کا

درمیاں پائے نظر ہے جب تک

ہم کو دعویٰ نہیں بینائی کا

کچھ تو ہے قدر تماشائی کی

ہے جو یہ شوق خود آرائی کا

اس کو چھوڑا تو ہے لیکن اے دل

مجھ کو ڈر ہے تری خود رائی کا

بزم دشمن میں نہ جی سے اترا

پوچھنا کیا تری زیبائی کا

یہی انجام تھا اے فصل خزاں

گل و بلبل کی شناسائی کا

مدد اے جذبۂ توفیق کہ یاں

ہو چکا کام توانائی کا

محتسب عذر بہت ہیں لیکن

اذن ہم کو نہیں گویائی کا

ہوں گے حالیؔ سے بہت آوارہ

گھر ابھی دور ہے رسوائی کا