خواجہ میر درد:مرا غنچۂ دل ہے وہ دل گرفتہ

خواجہ میر درد:مرا غنچۂ دل ہے وہ دل گرفتہ

خواجہ میر درد:مرا غنچۂ دل ہے وہ دل گرفتہ 18 مئی 2018 (12:27) 12:27 PM, May 18, 2018

تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا

برابر ہے دنیا کو دیکھا نہ دیکھا

مرا غنچۂ دل ہے وہ دل گرفتہ

کہ جس کو کسو نے کبھو وا نہ دیکھا

یگانہ ہے تو آہ بیگانگی میں

کوئی دوسرا اور ایسا نہ دیکھا

اذیت مصیبت ملامت بلائیں

ترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا

کیا مج کو داغوں نے سرو چراغاں

کبھو تو نے آ کر تماشا نہ دیکھا

تغافل نے تیرے یہ کچھ دن دکھائے

ادھر تو نے لیکن نہ دیکھا نہ دیکھا

حجاب رخ یار تھے آپ ہی ہم

کھلی آنکھ جب کوئی پردا نہ دیکھا

شب و روز اے دردؔ در پے ہوں اس کے

کسو نے جسے یاں نہ سمجھا نہ دیکھا