حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور کے مصریوں اور آج کے ہندومذہب کے پیروکاروں میں کیا مماثلت پائی جاتی ہے -جانئے دلچسپ تفصیلات

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور کے مصریوں اور آج کے ہندومذہب کے پیروکاروں میں کیا مماثلت پائی جاتی ہے -جانئے دلچسپ تفصیلات

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور کے مصریوں اور آج کے ہندومذہب کے پیروکاروں میں ... 18 مئی 2018 (11:31) 11:31 AM, May 18, 2018

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مصر کے جادو گروں پر کھلی اور بڑی فتح ہوئی تھی . فرعون کو جھک جانا چاہئیے تھا . مگر اس کا گھمنڈ سر نیچے کیسے کرتا فرعون نے دن دیہاڑے معجزہ دیکھ لینے پر اسرائیلوں کو رُخصت کرنے سے انکار کر دیا اور حضرت موسیٰ سے کہنے لگا " کتنا ہی جادو دکھاؤ ہم تمہیں ماننے والے نہیں.." حضرت موسیٰ کا فرعون سےمطالبہ کیا تھا ؟قرآن مجید میں صرف اس قدر بتایا گیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ " بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے دو " .

تورات میں تفصیل سے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ نے فرعون سے کہا کہ وہ خُدا کے حُکم سے بنی اسرائیل کومصر سے تین دن کے فاصلے پر بیابان لے جائیں گے تاکہ وہاں خُدا کی عبادت کر سکیں اور خُدا کے سامنے قربانی پیش کریں . فرعون نے یہ مطالبہ نامنظور کر دیا .اس پر کئی بلائیں باری باری مصر پر نازل ہوئیں . قرآن پاک میں ان بلاؤں کا ذکر مختصر جبکہ تورات میں بُہت تفصیل سے آیا ہے

لکھا ہے جب مصر پر مچھروں کی بلا ٹوٹی تو فرعون نے موسیٰ سے کہا کہ " اچھا جاؤ اپنے خُدا کیلئے قُربانی کرو " . حضرت موسیٰ نے جواب دیا کہ :

" اگر ہم اپنے خُدا کیلئے قُربانی کریں جس سے مصری نفرت رکھتے ہیں ہم مصریوں کی آنکھ کے سامنے قُربانی کریں گے جس سے وہ بیزار ہیں تو کیا وہ ہم پر پتھراؤ نہ کریں گے پس ہم تین دن کی راہ بیابان میں جائیں گے اور اپنے خُدا کیلئے جیسا وہ ہمیں حُکم دے گا ویسے ہی قربانی کریں گے . "

حضرت موسیٰ کے اس جواب سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک ایسا جانور بھی ساتھ تھا جسے ذبح کرنے والوں کو مصری قتل کر دیتے تھے . وہ گائے تھی جسے مصری پوجتے تھے اور مصری اسے مارنے والے کی جان لے لیا کرتے تھے

ہندوستان کے ہندؤؤں کا بھی چلن یہ ہی ہے . اورا س چلن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہندؤؤں نے گائے کی پُوجا پُرانے مصریوں سے لی ہے . گائے کی پُوجا اور گائے کے بدلے آدمیوں کا قتل بھی اس کی ایک مثال ہے . ہندوستان میں بھی گائے کی قربانی پر فساد ہوتے ہیں . اور انسانوں کو جانور کے بدلے ہلاک کیا جاتا ہے اور مصر میں بھی یہ ہی حال تھاکہ گائے حضرت موسیٰ کو ذبح کرنے کی اجازت نہ تھی