بھارتِ کے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کو سنجیدگی کے ساتھ دیکھا جائے۔ صدر آزاد کشمیر

بھارتِ کے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کو سنجیدگی کے ساتھ دیکھا جائے۔ صدر آزاد کشمیر

بھارتِ کے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے ... 18 جون 2018 (10:20) 10:20 AM, June 18, 2018

سری نگر : آزاد کشمیر کے صدر مسعود خان نے بھارتِ کے زیرِ انتظام کشمیر میں ریاستی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے عالمی برادری بالخصوص اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے مطالبہ کیا ہے کہ اس رپورٹ کو سنجیدگی کے ساتھ دیکھا جائے۔اس رپورٹ پر غیر تقسیم شدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ جنگ زدہ کشمیر سے انسانی حقوق کا بحران روکا جاسکے۔انہوں نے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (ایچ سی ایچ آر) کی پیشکش کا بھی خیر مقدم کیا، جس میں انہوں نے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کروانے کی تجویز پیش کی تھی۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی یہ فہرست جامع نہیں ہے، یہ تو سمندر میں بہتی چٹان کی صرف چوٹی ہے۔ بھارت نے اس سے قبل انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لینے کے لیے حقائق کی تلاش کرنے والے ایچ سی ایچ آر کے وفد کو مقبوضہ وادی میں جانے سے روک دیا تھا۔

یاد رہیکہ بھارتی فورسز نے فائرنگ کرکے عید کے روز دو کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔

تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم عید پر بھی جاری رہے، عید الفطر کے روز بھی بھارتی فورسز نے فائرنگ کرکے دو کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔مقبوضہ کشمیر میں عید کےدن آزادی کے حق میں نعرے لگائے گئے ، پاکستانی پرچم لہرادیے گئے بھارتی جبر و تشدد عید کے دن بھی نہ رکا قابض فورسز نے نہتے مظاہرین پر گولیاں چلا دیں جس کے باعث ایک نوجوان شہید درجنوں زخمی ہوگئے، میرواعظ عمرفاروق نے عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہعید کےدن بھی کشمیری بھارتی مظالم سے محفوظ نہیں ۔وادی میں عیدالفطر کی نماز کے بعد بھارت مخالف مظاہرے کئے گئے جس میں مظاہرین نے پاکستان کے حق میں نعرے لگائے اور پاکستانی جھنڈے لہرائے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ وادی میں نمازِ عید کے بعد وادی بھر میں بھارتی مظالم کے خلاف مظاہرے کیے گئے، کشمیریوں نے آزادی کے حق میں نعرے لگائے اور پاکستانی پرچم لہرائے۔ وادی میں نوجوان کی شہادت کے خلاف اب بھی مظاہرے کیے جارہے ہیں اور کئی مقامات پر بھارتی فوج سے جھڑپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

مظاہرین نے بھارتی فوج کے کشمیر سے نکل جانے کا مطالبہ بھی کیا، بھارتی فورسز نے نہتے کشمیریوں پر پیلٹ گنز سے فائرنگ کردی آنسو گیس کے شیل برسائے ۔ بھارتی فورسز نے حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کو نماز ِعید میں شرکت سے روک دیا۔حریت رہنما میرواعظ عمرفاروق کہتے ہیں کشمیرکامسئلہ سیاسی ہے اس کا فوجی حل ممکن نہیں۔

بھارتی فورسز نے مظاہرین کو روکنے کے لیے آنسو گیس کے شیل برسائے اور پیلٹ گن کا استعمال کیا، مظاہرین سے جھڑپوں کے دوران بھارتی فوج نے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں دو نوجوان شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔

متعلقہ خبریں