امریکا کی ریاست انڈیانا میں اپریل 1988ء میں آٹھ سالہ بچّی ٹینسلے کے اغوا، زیادتی اور قتل ک مجرم کو30 برس کے بعد ناقابل یقین طور پر گرفتار کر لیا گیا۔

امریکا کی ریاست انڈیانا میں اپریل 1988ء میں آٹھ سالہ بچّی ٹینسلے کے اغوا، زیادتی اور قتل ک مجرم کو30 برس کے بعد ناقابل یقین طور پر گرفتار کر لیا گیا۔

امریکا کی ریاست انڈیانا میں اپریل 1988ء میں آٹھ سالہ بچّی ٹینسلے کے اغوا، ... 18 جولائی 2018 (22:45) 10:45 PM, July 18, 2018

امریکا کی ریاست انڈیانا میں اپریل 1988ء میں آٹھ سالہ بچّی ٹینسلے کے اغوا، زیادتی اور قتل کی پراسرار کارروائی تیس برسوں تک تحقیق کاروں کے لیے ایک معمّہ بنی رہی۔

مزید برآں قاتل نے لاش کے ملنے کی جگہ کے نزدیک ایک استہزائیہ پیغام تحریر کیا تھا جس میں سابقہ جرم کا اعتراف کرتے ہوئے دھمکی دی گئی تھی کہ وہ ایک اور جرم کا ارتکاب کرے گا۔ یہ تحریر اُس وقت عدالتی تحقیقات کو مزید پیچیدہ بنانے کے سوا کسی کام نہ آئی۔البتہ وقت کے ساتھ ڈی این اے کی ٹکنالوجی میں پیش رفت اور ترقی کی مہربانی سے مشتبہ قاتل کو 30 برس کے بعد ناقابل یقین طور پر گرفتار کر لیا گیا۔ قاتل نے جرم کا اعتراف بھی کر لیا۔ انڈیانا میں ایلن کاؤنٹی کی عدالت کی ویب سائٹ کے مطابق 59 سالہ جون مِلر پر ابتدائی طور پر 14 برس سے کم عمر بچوں کے قتل، ہراساں کرنے اور حبسِ بے جا میں رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔پیر کے روز عدالت نے مشتبہ قاتل کے لیے کسی ضمانت کی پیش کش نہیں کی۔ عدالتی کارروائی 19 جولائی تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔پولیس نے جائے واردات سے اور استہزائیہ پیغامات سے حاصل ہونے والے DNA کو متعلقہ ڈیٹا بیس میں داخل کروا دیا تھا۔ اس امر نے تحقیق کاروں کو قاتل جون مِلر اور اس کے بھائی تک پہنچا دیا۔ستمبر 2006 میں فورٹ وائن کی پولیس نے عوام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپریل 1988ء میں آٹھ سالہ بچی ٹینسلے کے قتل کے جرم کے حوالے سے کسی بھی نوعیت کی معلومات پیش کریں۔ اس کے نتیجے میں تھوڑی بہت معلومات سامنے آئیں تاہم یہ کیس میں بنیادی پیش رفت ثابت ہوئیں۔ وقت کے ساتھ لوگوں میں ڈی این اے کی معلومات داخل کرنے کا رواج اور شعور بڑھتا گیا جس کے سبب تحقیق کاروں کو نسبتا کم افراد کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا موقع مل گیا۔اپریل 1988ء میں ایک روز آٹھ سالہ ٹینسلے فورٹ وائن میں اپنے رہائشی محلّے میں گھوم رہی تھی کہ اس دوران اسے اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر قتل کر دیا گیا۔ تین روز بعد اس کی لاش 20 میل دُور ایک دیہی علاقے سے برآمد ہوئی۔واقعے کے دو سال بعد 1990ء میں پولیس کو لاش ملنے کی جگہ کے نزدیک ایک گودام کے دروازے پر پینسل یا کلر پینسل سے لکھی ایک تحریر نظر آئی۔ تحریر میں یہ پیغام تھا کہ "میں نے اسے قتل کر دیا ہے اور اب میں ایک بار پھر قتل کروں گا"۔اس کے تقریبا 14 برس بعد 2004ء میں مزید شواہد سامنے آئے اور فورٹ وائن کے علاقے میں تضحیک آمیز یادداشتوں پر مشتمل عبارتیں تحریر کی گئی تھیں۔ ان پیغامات میں لکھا گیا کہ "میری پیاری میں ہی وہ شخص ہوں جس نے ٹینسلے کو قتل کیا تھا اور اب تم میری اگلی شکار ہو گی"۔سال 2004ء میں قاتل نے فورٹ وائن میں 4 پیغامات چھوڑے ۔امریکی ایف بی آئی کے مطابق یہ پریشان کن کاغذات استعمال شدہ کونڈمز یا قاتل کے جسم کی تصاویر کے ساتھ پیکٹ میں موجود تھے۔ بعد ازاں مذکورہ کونڈمز کے مالک کے ڈی این اے کا تعین کیا گیا جو مقتولہ بچّی کے زیر جامہ کپڑوں کے ساتھ ملنے والی معلومات سے مطابقت رکھتا تھا۔اس کے بعد قاتل کی جانب سے کوئی تحریری پیغام سامنے نہیں آیا۔سال 2009ء میں ایف بی آئی نے کیس میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اسے بڑی حد تک حل کیا جا سکتا ہے تاہم کوئی پیش رفت سامنے نہ آئی۔ مئی 2018ء تک صورت حال یوں ہی رہی یہاں تک کہ ایک مرتبہ پھر سے ڈی این اے ٹیسٹ کرائے جانے اور تجزیے کے بعد قاتل کو گرفتار کر لیا گیا۔ تحقیق کاروں کے مطابق مقتولہ بچّی کی تمام چیزوں کے خصوصی تجزیے کے بعد مشتبہ شخص کے تعاقب کے لیے ڈی این اے کے ڈیٹا بیس کو استعمال کیا گیا۔بعد ازاں ڈی این اے ٹیسٹس کے بعد 2 جولائی کو صرف دو افراد مشتبہ اشخاص کی فہرست میں باقی رہ گئے۔ ایک جون مِلر اور دوسرا اس کا بھائی تھا۔ مِلر کے کچرے کے معائنے کے بعد تین کونڈمز مل گئے جو پہلے سے موجود ڈی این اے سے مطابقت رکھتے تھے۔

متعلقہ خبریں