اگر میں ہار جاتا تو یہ کہا جاتا کہ مہابت جنگ گھبراہٹ میں جوتے چھوڑ کر بھاگ گیا ہے-یہ تاریخی الفاظ بہادر مسلمان حکمران مہابت جنگ کے ہیں-پڑھیے سبق آموز قصہ

اگر میں ہار جاتا تو یہ کہا جاتا کہ مہابت جنگ گھبراہٹ میں جوتے چھوڑ کر بھاگ گیا ہے-یہ تاریخی الفاظ بہادر مسلمان حکمران مہابت جنگ کے ہیں-پڑھیے سبق آموز قصہ

اگر میں ہار جاتا تو یہ کہا جاتا کہ مہابت جنگ گھبراہٹ میں جوتے چھوڑ کر بھاگ ... 17 مئی 2018 (04:39) 4:39 AM, May 17, 2018

مغل حکومت ک چراغ بجھنے کیلئے جھلملا رہا تھا . اس چراغ کی چند جاندار کرنوں میں مہابت جنگ نواب علی وردی خان ناظم بنگال بھی تھا . مرہٹوں کیساتھ مسلسل بارہ سال تک جنگ ہوتی رہی مرہٹوں کو بارہ سال تک ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا رہا . ایک بار وہ شکار کیلئے اڑیسہ گیا ہوا تھا . اس کیساتھ کُل پانچ چھ سو جوان تھے . اچانک مرہٹوں نے حملہ کر دیا

مہابت جنگ نے حکم دیا کہ ہاتھی کس کر لایا جائے .لوگوں پر بدحواسی طاری تھی . لیکن مہابت خان بے حد اطیمنان سے مقابلے کیلئے تیار ہوا . ہاتھی آگیا . سیڑھی لگائی گئی . لیکن عجلت میں نواب کے جوتے کہیں گُم ہو گے . لوگ بار بار تقاضا کر رہے تھے . کہ وہ جوتوں کی فکر نہ کرے . ویسے ہی سوار ہو جائے . مرہٹے سر پر پہنچ گئے ہیں . مگر نواب انتہائی اطیمنان سے ٹہلتا رہا . جب بات حد سے زیادہ گزرنے لگے . تو اتفاق سے جوتے مل گے . مقابلہ ہوا اور ایک بار پھر مرہٹوں کو شکست ہوئی بعد میں جب مہابت جنگ سے دریافت کیا گیا ک وہ انتہائی نازک اور خطر ناک موقع پر جوتوں کیلئے اصرار کیوں کیا

اس نے جواب دیا " اگر میں ہار جاتا تو یہ کہا جاتا کہ مہابت جنگ گھبراہٹ میں جوتے چھوڑ کر بھاگ گیا ہے "-اس فیصلے سے اندازہ کیا جا سکتا ہے مہابت جنگ کیسا دلیر بادشاہ تھا