ایک عورت جومسلمان سلطنت عباسیہ کے بادشاہوں کے فیصلوں پر اثر انداز ھوتی تھی -پڑھئے دلچسپ عورت کی کہانی

ایک عورت جومسلمان سلطنت عباسیہ کے بادشاہوں کے فیصلوں پر اثر انداز ھوتی تھی -پڑھئے دلچسپ عورت کی کہانی

ایک عورت جومسلمان سلطنت عباسیہ کے بادشاہوں کے فیصلوں پر اثر انداز ھوتی تھی ... 17 مئی 2018 (04:35) 4:35 AM, May 17, 2018

مؤرخین اسلامی تاریخ کےسب سے طویل ترین سلسلہ بادشاہت یعنی خلافت بنو عباس کے تیسرے خلیفہ مُحمد المہدی عباسی (اکتوبر 774 جولائی 785 بہ مطابق مہدی کا شمار ایسے ہی افراد میں کرتے ہیں . جو ایک عظیم الشان سُلطنت کا ملک و مُختار ہونے کے باوجود ایک حسین عورت کا غلام تھا .

مہدی خلیفہ ضرور تھا مگر اصل حکومت خیزران کی تھی . جو شوہر کے علاوہ اپنے دونوں بیٹوں کے فیصلوں پر بُری اثر انداز ہوتی رہی .

بعض مؤرخین خیزران کو ایک کینہ پرور , لالچی اور خود غرض ملکہ کا خطاب دیتے ہیں . کیونکہ اسے اپنی دولت میں اضافے اور احکامات پر عمل درآمد کے علاوہ کسی اور شے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی

خیزران بھی ان لونڈیوں میں سے ہی ایک تھی .

جب خیزران محمد بن منصور کی زندگی میں داخل ہوئی . تو وہ ولی عہد نہیں تھا . البتہ اسے مہدی کاخطاب مل

چُکا تھا اور وہ شادی شُدہ تھا . اس کی بیوی ریطہ پہلے عباسی خلیفہ ابو العباس السفاح کی بیٹی یعنی اس کی چچا ذاد تھی .

ریطہ کبھی بھی اپنے شوہر کی منظور نظر نہ بن سکی . اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ دلکش و رعنائی سے عاری بھاری بھر کم جسم کی مالک تھی . روایت ہے کہ اس کا بھائی محمد بن ابی العباس سخت کوش اور بے پناہ ورزش کا عادی تھا . ریطہ ورزش میں بھائی کیساتھ شریک ہوتی تھی . محمد بن ابی العباس لوہے کا ایک گرزا اس کی طرف اُچھالتا وہ اُچک کر اسے پکڑتی اور واپس اس کی جانب پھینکتی

اس نے شوہر سے ضد کر کے اپنے دونوں بیٹوں کو ولی عہد کا منصب کسی اور سے چھین کر دلوایا . اسے یقین تھا کہ بیٹا اس کے اس احسان کی لاج رکھے گا اور اسکا حُکم بدستور خلافتِ بنو عباس پر چلتا رہے گا . لیکن خلیفہ بیٹے نے خیزران کا حُکم . ماننے سے انکار کیا تو اس نے ازخود اپنے " لاڈلے " بیٹے کی موت کی سازش تیار کی . جب بیٹے کی مرنے کی اطلاع اسے پہنچائی گئی تو اس نے باقاعدہ خوشی کا اِظہار کیا . چنانچہ تاریخ نگاروں نے خیزران کو ایک ظالم ماں کا خطاب دیاہے .

اصلاّ اور نسلاّ ہاشمی ہونے کے دعویدار 37 عباسی خلیفہ مسند اقتدار پر بیٹھے جن میں سے صرف تین خلیفہ اعلیٰ حسب نسب کی حامل عورتوں کے بطن سے تھے . ان میں سے ایک امین الرشید (ملکہ زبیدہ بنت جعفر کے بطن سے ) نجیب الطرفین ہاشمی تھا . جبکہ باقی تمام کنیزوں لونڈیوں کی اولادیں تھیں

مہدی نے ولی عہد بننے کے بعد خیزران سے شادی کی اور اُسے وہی مقام دیا جو اس کی خاندانی بیوی ریطہ کا تھا . گو ریطہ بھی اسی سال ایک لڑکے کی ماں بنی جس کا نام علی رکھا گیا . لیکن خیزران کے رعب و دبدبے میں نہایت اضافہ ہو گیا .

اس صورت حال کا قُدرتی نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ خیزران اور ریطہ دو روایتی سوکنوں کی حیثیت سےایک دوسرے کے مقابل سامنے آگئیں . دونوں میں نہ ختم ہونے والی نفرت اور حسد و بے زاری پیدا ہوگئی . اس کی وجہ ریطہ کو خود کو برتر سمجھنا بھی تھا . وہ نسلاّ ہاشمی بھی اور اس رتبے کی مقتاضی بھی . اس کا سماج خاندان اور مرتبہ بہرحال خیزران سے بُلند تھا . لیکن شوہر کا رُحجان خیزران کیطرف زیادہ تھا .

ریطہ نے پھر خود ہی محل کے اندرونی معاملات سے کنارہ کشی اختیار کر لی . جس کا خیزران نے بھرپور فائدہ اُٹھایا اور رفتہ رفتہ شوہر پر حاوی ہوتی چلی گئی اور اسے اپنی خواہشات کا غُلام بنا لیا

خیزران کو اپنے بیٹے موسیٰ سے بے انتہا محبت تھی .اس نے بیٹے کی پرورش کیلئے دن رات ایک کر چھوڑا تھا . البتہ اُسے ایک فکر لاحق تھی . کہ وہ ایک باندی تھی اور محلوں میں باندیوں کی عمریں ایک مخصوص حد سے زیادہ برداشت نہیں کی جاتی ہیں . چُنانچہ اسے بھی خدشہ ہوا کہ مہدی اس کا مرتبہ کسی اور باندی کو دے دیگا .

لیکن قسمت کی دیوی اس پر مہربان تھی موسیٰ نے ابھی چلنا نہیں شروع کیا تھا کہ اسے اپنے پیٹ میں ایک نئی روح کی موجودگی کا احساس ہونے لگا اور 765 کے موسم سرما کی شام اس نے ایک اور صحت مند اور خوش شکل بیٹے کو جنم دیا , جس کا نام باپ نے ہارون رکھا .

اب وہ دو بیٹوں کی ماں تھی جسمیں کوئی ایک لازمی طور پر ولی عہد سلطنت ہوتا . چنانچہ اب ان خدشات کا خاتمہ ہو گیا جو اسے اپنے مستقبل کے حوالے سے لاحق تھا

اسی زمانے میں خلیفہ منصور کے بڑے بیٹے جعفر اکبر کا انتقال ہو گیا چنانچہ اس نے مہدی کو بغداد بلا بھیجا .بغداد میں رہے کر خیزران کی عادات میں نمایاں تبدیلیاں آئیں . وہ بے انتہا ذود حس اور انتہا پسند ہوگئی . محبت میں بھی اور نفرت میں بھی . محبت کرتی ےتو سراپا محبت بن جاتی اور بڑی سے بڑی تکلیف بھی بھول جاتی لیکن جب نفرت کرتی تو نفرت کی وحشت و بربریت کی آخری حدوں تک پہنچ جاتی . اس کی عادات اور مزاج بنانے میں اس کے شوہر کا بڑا ہاتھ تھا . وہ اسےغضب ناک دیکھ کر سہم جاتا اور اس کی ہر بات مان لیتا اس کا کوئی ایسا مطالبہ نہیں جو پورا نہ ہوا ہو اس کی کوئی ایسی خواہش نہیں جو ادھوری رہے جائے .

واقدی کے حوالے سے ایک روایت ہے کہ " ایک روز میں مہدی کی خدمت میں حاضر ہوا .اسے میں نے بعض حدیثیں سُنائیں جنھیں اس نے لکھ لیا اور اور زنان خانے کیطرف چلا گیا . ذرا دیر گُزری تھی کہ غُصے میں بھرا ہوا باہر نکلا

میں نے عرض کیا امیر المؤمنین مزاج عالی برہم کیوں نظر آ رہے ہیں .

مہدی نے جواب دیا " میں خیزران کے پاس گیا تھا وہ غصے میں بھری بیٹھی تھی . اور اس نے میرے کپڑے پکڑ کر کھینچے تار تار کر دئیے اور کہنے لگی جب سے تیرے یہاں آئی ہوں میں نے خاکروب!کوئی بھلائی نہیں پائی تجھ سے ......حالانکہ میں نے اسے خناس سے خریداتھا . اللہ تجھے غارت کرے اے واقدی کیا ! بتا کیا میں خاکروب ہوں .

خیزران کی اس حرکت اور خلیفہ کے ردعمل سے خود اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کون کس پر حاوی تھا . بعض لوگ کہتے ہیں کہ مہدی خیزران کو دیکھ کر اس طرح مؤدب ہو جایا کرتا تھا کہ جیسے خیزران خلیفہ ہو اور وہ خود اس کا کوئی تیسرے درجے کا مصاحب !

خیزران کو مال و دولت جمع کرنے کی نہایت ہوس تھی مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ نہایت فیاض اور سخی بھی تھی .

آخری اموی خلیفہ مردان کی بیوی مزنہ نہایت عسرت و تنگ دستی کے عالم میں بھوک و پیاس سے نڈھال ایک دن خیزران کے پاس آئی . جب اس کے پاس ہاشمی خاندان کی بعض اور عورتیں بھی موجود تھیں . انہوں نہ صرف مزنہ کو پہچان لیا بلکہ اسے ذلیل و رسوا کر کے محل سے نکالنے کی کوشش بھی کی لیکن خیزران کا دل اس کی حالت دیکھ بھر آیا . وہ یہ دیکھ کرآزردہ خاطرہو گئی . کہ کل کی ملکہ آج ایک بھکارن کی صورت میں اس کے دروازے پر آئی ہے

اس نے ہاشمی خواتین کے طنز و تشنیع کی پرواہ کئے بغیر کنیزوں کو محل میں اس کیلئے آرام و آسائش سے بھرپور ایک ایک کمرہ تیار کرنے کا حُکم دیااور تسلی دے کر مزنہ کو وہاں بھیج دیا . کہتے ہیں جب مہدی گھر آیا تو خیزران نے سارا واقعہ اُسے سُنایا تو مہدی کی آنکھیں بھی نم آلود ہو گئیں . کہنے لگا :" اگر تم نے مزنہ کیساتھ یہ سلوک نہ کیا ہوتا تو میں تمھارے ساتھ کبھی بات نہ کرتا . "

خیزران اپنے دونوں بیٹوں سے بے حد پیار کرتی تھی لیکن موسیٰ کی خود سری اور نافرمانی کے باعث اس سے ناراض رہتی . البتہ ہارون خیزران کا مطیع و فرمانبردار تھا چنانچہ وہ ہارون کو آگے بڑھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتی . چنانچہ اس نے ہارون کے ولی عہد بنانے کو ضد کی مگر خلیفہ نہ مانا .

باپ کے انتقال کے بعد اٹھارویں دن موسیٰ الہادی خلیفہ کی حیثیت سے بغداد پہنچا اور حالات وواقعات کے تجزیے کے بعد " بھول جاؤ " پالیسی اختیار کی . اس نے سوچاماں کیساتھ صلح کر لے گا اور پُرانے واقعات فراموش کر دیگا .

ایک روز خیزران موسیٰ کے پاس کسی کام کو کروانے کے سلسلے میں آئی مگر موسیٰ نے اس کام کرنے سے انکار کر دیا .

خیزران کو اس کے انکار نے بہت دکھ دیا اور غم و غصہ میں اس کی حالت ایسی ہو رہی تھی کہ وہ پاؤں کہیں پر رکھ رپی تھی پڑ کئی رہا تھا . یحیٰ برمکی نے اس واقعے کا بھرپور فائدہ اُٹھایا اور خیزران کو باور کروا دیا کہ نہ صرف موسیٰ نے اپنے باپ کو زہر دیکر ہلاک کیا ہے بلکہ وہ خود اسے اور ہارون کو مروانا چاہتا ہے .

ہادی انے ایک روز ماں کیلئے پلاؤ بھجوایا . جب خیزران کھانے لگی تو خادمہ نے کہا سیدہ ٹھہرئیے ! ایسا نہ ہو آپکو نقصان پہنچانے والی کوئی چیز ہو . جب وہ کھانا کُتے کے سامنے ڈالا گیا تو کہتے ہیں کہ اس کی کھال تک اُتر گئی

یہ کسی تیسرے فریق کی چال تھی تاکہ یہ ماں بیٹا مزید ایک دوسرے سے دور ہوں . اس کے چند روز بعد ہی الہادی فوت ہو گیا . مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ ہادی کی موت دم گھٹ کر ہوئی اور خیزران کے اشارے سے یوئی .

بعض ہاشمی عورتیں خیزران کے پاس ہادی کی تعزیت کیلئے آئیں .اور کہا ہمیں بہت افسوس ہو ا ہے ہادی کی موت کی خبر سن کر . خیزران نے انتہائی اطیمینان سے جواب دیا :" تو کیا ہوا ہارون تو زندہ ہے "

پھر اس نے خود بھی ستو پیا اور وہاں پر موجود تمام عورتوں کو بھی دیا . پھر ایک بڑی رقم نکلوائی اور تمام عورتوں میں تقسیم کر دی . گویا یہ ایک خوشخبری تھی جس کا انعام بانٹا گیا .

ہارون الرشید کے خلیفہ بننے کے بعد 786 میں خیزران می پرانی حیثیت برقرار ہو گئی . معاملات عوام اور امور مملکت میں اس کی دخل اندازی اس طرح شروع ہوگئی جیسے شوہر کے زمانے تھی .

یحیٰ اچھی طرح جانتا تھا کہ خیزران کو دولت جمع کرنے کا بہت شوق ہے . اس لیے وہ بغیر حساب کتاب اس کی ہر خواہش پوری کرتا رہتا . اس نے اس کیلئے بہت سارے باغات اور جاگیریں خرید کر خیزران کی نذر کر دی اور یہ سب چیزیں پا کر خیزران بے انتہاخوش ہوتی . اس کی جائیدایں بے انتہا زیادہ ہیں . ہارون کی خلافت کے صرف تین سال بعد وہ انتقال کر گئی . وفات کے وقت خیزران کی عمر لگ بھگ 50 سال تھی