ضمیر لالہ مۂ لعل سے ہوا لبریز

ضمیر لالہ مۂ لعل سے ہوا لبریز

ضمیر لالہ مۂ لعل سے ہوا لبریز 17 مئی 2018 (02:19) 2:19 AM, May 17, 2018

ضمیر لالہ مۂ لعل سے ہوا لبریز

اشارہ پاتے ہی صوفی نے توڑ دی پرہیز

بچھائی ہے جو کہیں عشق نے بساط اپنی

کیا ہے اس نے فقیروں کو وارث پرویز

پرانے ہیں یہ ستارے فلک بھی فرسودہ

جہاں وہ چاہیئے مجھ کو کہ ہو ابھی نوخیز

کسے خبر ہے کہ ہنگامۂ نشور ہے کیا

تری نگاہ کی گردش ہے میری رستاخیز

نہ چھین لذت آہ سحرگہی مجھ سے

نہ کر نگہ سے تغافل کو التفات آمیز

دل غمیں کے موافق نہیں ہے موسم گل

صدائے مرغ چمن ہے بہت نشاط انگیز

حدیث بے خبراں ہے تو با زمانہ بساز

زمانہ با تو نہ سازد تو با زمانہ ستیز