پاکستانی انٹلیجنس کی فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق

پاکستانی انٹلیجنس کی فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق

پاکستانی انٹلیجنس کی فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق 17 جون 2018 (21:47) 9:47 PM, June 17, 2018

پاکستان انٹلیجنس اہلکاروں نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مولانا فضل اللہ کی افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ کے ضلع مرورہ میں ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان پر 13 جون کی رات کو امریکی ڈرون حملہ کیا گیا جس میں وہ اپنے تقریبا 4 محافظوں کے ہمراہ ہلاک ہوگئے ہیں۔

انٹلیجنس ذرائع کے مطابق فضل اللہ 13 جون کو تحریک طالبان سوات کے ایک مرکز میں ایک افطار پارٹی میں شرکت کیلئے گئے تھے ۔ افطاری کے بعد واپس اپنی گاڑی میں جاتے ہوئے ان پر ڈرون حملہ کیا گیا جس سے وہ موقع پر اپنے محافظوں سمیت ہلاک ہوگئے ۔ ان پر حملہ 13 جون کی رات کو تقریبا 10:45 پر کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق حملے میں ہلاک ہونیوالے مکمل طور پر جل گئے تھے اور انہیں 14 جون کی صبح دو بجے بچئی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

یاد رہیکہ طالبان کمانڈر ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے۔ افغانستان کی وزارت دفاع نے ملا فضل اللہ کے مارے جانے کی تصدیق کردی ۔بی بی سی کے مطابق، فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق افغان وزارت دفاع نے کی ہے۔ افغان وزارت دفاع کے مطابق، فضل اللہ تیرہ جون کو کنڑ میں امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا۔امریکا نے فضل اللہ کے سر کی قیمت 50 لاکھ ڈالر مقرر کی تھی۔

یاد رہیکہ افغانستان کے علاقے کنٹر میں ڈرون حملے کے نتیجے میں طالبان رہنما ملا فضل اللہ کے ہلاک ہونے کی غیرمصدقہ اطلاعات ملی تھیں ۔ امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکا کی رپورٹ کے مطابق امریکی اور مقامی حکام اس خبر کی تصدیق کررہے ہیں۔ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 13 جون کو ہونے والے ڈرون حملہ کا ہدف ملا فضل اللہ تھے۔ افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان لیفٹینینٹ کرنل مارٹن او ڈونل کے وائس آف امریکا کو بتایا کہ 13 جون کو امریکی فورسز نے صوبہ کنٹر میں ایک حملہ کیا گیا جس میں ایک دہشت گرد تنظیم کے سینئر رہنما کو نشانہ بنایا گیا۔تاہم ترجمان نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس حملے کا ہدف ملا فضل اللہ ہی تھے۔پینٹا گان حکام نے ڈرون حملہ کامیاب رہا یا نہیں اس پر تبصرے سے انکار کر دیا ہے۔لیکن افغان وزارت دفاع کے مطابق، فضل اللہ تیرہ جون کو کنڑ میں امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا۔امریکا نے فضل اللہ کے سر کی قیمت 50 لاکھ ڈالر مقرر کی تھی۔

متعلقہ خبریں