اشرف غنی کے جنگ بندی میں توسیع کےعلان پر طالبان کا حیران کن ردعمل

اشرف غنی کے جنگ بندی میں توسیع کےعلان پر طالبان کا حیران کن ردعمل

اشرف غنی کے جنگ بندی میں توسیع کےعلان پر طالبان کا حیران کن ردعمل 17 جون 2018 (20:52) 8:52 PM, June 17, 2018

افغان صدر اشرف غنی نے عید الفطر کے موقع پر جنگ بندی میں مزید توسیع کا اعلان کردیا تاہم افغان طالبان نے جنگ بندی کا اعلان مسترد کردیا ۔ اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے زبیح اللہ مجاہد نے بتایاکہ ’ آج رات سیز فائر ختم ہوجائے گی اور ہمارا آپریشن دوبارہ شروع ہوجائے گا، ہمارا جنگ بندی میں توسیع کا کوئی ارادہ نہیں۔ تحریک طالبان افغانستان کے ترجمان نے کہا ہے کہ تین روزہ جنگ بندی کے خاتمے پر ہی افغان فورسز کیساتھ لڑائی شروع ہوجائے گی ، جنگ بندی کی مدت آج رات ختم ہورہی ہے ۔ مقامی میڈیا کے مطابق جنگجووں کے تین گروپ اس بات پر متفق ہے کہ آج رات کو ہی کارروائیاں شروع کردیں گے ۔

افغانستان میں جنگ بندی کے خاتمے کے آخری روز صدر اشرف غنی نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کردیا ۔افغان حکومت نے عیدالفطر کے موقع پر طالبان کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا جب کہ طالبان کی جانب سے بھی جنگ بندی کا غیر مشروط اعلان کیا گیا تھا۔افغان میڈیا کے مطابق افغانستان میں جنگ بندی کے خاتمے کے آخری روز صدر اشرف غنی نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔دوسری جانب امریکا نے افغان صدر کی جنگ بندی معاہدے میں توسیع کی پیش کش کو خوش آئندہ قرار دیتے ہوئے مذاکرات میں معاونت، سہولت کاری اور شرکت پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان فوجی اور طالبان کی اکٹھے نماز عید کی تصاویر دیکھی ہیں، اکٹھے نماز پڑھ سکتے ہیں تو بات چیت کیوں نہیں۔

یاد رہیکہ افغانستان کے مشرقی صوبے ننگر ہار میں ہفتے کی شام طالبان اور سرکاری فوج کے ایک اجتماع میں کار بم دھماکے میں کم سے کم بیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں ۔خودکش بمبار نے اپنی بارود سے بھری کار کو ایسے وقت میں دھماکے سے اڑایا ہے جب افغان سکیورٹی فورسز اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان عید الفطر کے موقع پر پہلی مرتبہ جنگ بندی جاری تھی اور وہ دارالحکومت کابل سمیت مختلف شہروں میں آپس میں گھل مل رہے تھے اور اپنے اپنے اسمارٹ فونز میں یہ خوش گوار مناظر سیلفیوں کی شکل میں محفوظ کررہے تھے۔صوبہ ننگر ہار کے گورنر کے ترجمان عطاء اللہ خوجیانی نے طورخم اور جلال آباد کے درمیان شاہراہ پر واقع قصبے غازی امین اللہ میں اس کار بم دھماکے کی تصدیق کی ہے۔انھوں نے پہلے یہ کہا تھا کہ دھماکا راکٹ گرینیڈ کے پھٹنے سے ہوا ہے۔فوری طور پر کسی گروپ نے اس کار بم دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔

متعلقہ خبریں