ترکی کے لڑاکا طیاروں نے عراقی پہاڑی سلسلے قندیل میں کردستان ورکرز پارٹی کے اجلاس پر بمباری۔

ترکی کے لڑاکا طیاروں نے عراقی پہاڑی سلسلے قندیل میں کردستان ورکرز پارٹی کے اجلاس پر بمباری۔

ترکی کے لڑاکا طیاروں نے عراقی پہاڑی سلسلے قندیل میں کردستان ورکرز پارٹی کے ... 17 جون 2018 (15:47) 3:47 PM, June 17, 2018

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ترکی کے لڑاکا طیاروں نے عراقی پہاڑی سلسلے قندیل میں کردستان ورکرز پارٹی کے اجلاس کو نشانہ بنایا۔ ترکی کا دعویٰ ہے کہ اجلاس میں غیر قانونی کرد پارٹی کے سرکردہ عسکری رہنما شریک تھے۔ ترکی نے ایران اور عراق کی سرحد سے ملنے والے شمالی عراق میں کردستان ورکرز پارٹی کے قندیل پہاڑی سلسلے میں ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ انقرہ کا خیال ہے کہ قندیل پہاڑی سلسلے میں کردستان پارٹی کے سرکردہ عسکری رہنما قیام پذیر ہیں۔ترک حکومت کا مزید کہنا ہے کہ شمالی عراق سے تقریباً تیس کلومیٹر کے فاصلے پر قندیل پہاڑیوں کے قریب ترک فوجی دستے عراق کے اندر تعینات ہیں۔چینل 7 کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ایردوآن کا کہنا تھا کہ ان کے لڑاکا طیاروں نے قندیل پہاڑی سلسلے میں کردستان ورکرز پارٹی کے اہم اجلاس جس میں سرکردہ عسکری رہنما بھی شریک تھے کو نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ترک فوج اس فضائی حملے میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان سے متعلق تفصیلات چند گھنٹوں بعد جاری کرے گی۔انھوں نے مزید کہا کہ تازہ ترین کارروائی میں ہم نے کردستان پارٹی کے اہم اجلاس کو نشانہ بنایا ہے۔ ابھی ہمیں کارروائی کے نتائج سے متعلق معلومات نہیں ملیں، تاہم یہ بات یقینی ہے کہ ہم نےانہیں نشانہ بنایا ہے۔

یاد رہیکہ ترکی کے وزیر دفاع نور الدین جانکلی کا کہنا ہے کہ جب تک تمام "دہشت گرد جماعتوں" کا خاتمہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک ترکی کی فورسز شمالی عراق میں باقی رہیں گی۔ انہوں نے یہ بات منگل کے روز ترک نیوز ایجنسی اناضول کو دیے گئے انٹرویو میں کہی۔جانکلی کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترک حکومت کی جانب سے قندیل کے پہاڑوں میں موجود مسلح کُردوں کے خلاف فوجی کارروائی کے حوالے سے انتباہات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ترک وزیر دفاع کے مطابق ان کے ملک نے ایران کے ساتھ قندیل میں ممکنہ فوجی آپریشن پر عمل درامد کی پیش کش کی ہے۔ ایران نے اس حملے کے لیے اپنی سپورٹ کا اظہار کیا ہے۔جانکلی نے بتایا کہ ترکی آپریشن کے حوالے سے بغداد کے ساتھ مکمل طور پر متفق ہے۔

متعلقہ خبریں