روم کے جابر اور سنگدل حکمران نیرو کی کہانی-وہ اپنی تسکین کیلئے کیسے کیسے کھیل کھیلتا تھا جانئے دلچسپ بادشاہ کے مزاج

روم کے جابر اور سنگدل حکمران نیرو کی کہانی-وہ اپنی تسکین کیلئے کیسے کیسے کھیل کھیلتا تھا جانئے دلچسپ بادشاہ کے مزاج

روم کے جابر اور سنگدل حکمران نیرو کی کہانی-وہ اپنی تسکین کیلئے کیسے ... 17 جون 2018 (01:18) 1:18 AM, June 17, 2018

روم کا جابر اور سنگدل بادشاہ سوچ میں ڈوبا ہواتھا . ہر طرف خاموشی کا راج تھا . درباری سوچ رہے تھے کہ نہ جانے اب کون سی مصیبت آنے والی ہے . کیونکہ جب بادشاہ ایسی سوچ میں گم ہوتا ,کوئی نا کوئی ظلم کا کھیل ,تفریح کیلئے ضرور سوچ رہا ہوتا تھا

ایک درباری نے آہستہ سے کہا کہ" لوگ کہا جائیں گے ."عرض کہ درباریوں نے ہزاروں خدشات کا اظہار کر کے باد شاہ کو اس عمل سے روکنے کی کوشش کی . لیکن بادشاہ اپنی بات پر قائم رہا اور درباریوں کو دھمکی دی کہ جو اس بات کی مخالفت کرےگا . اس کا یہ فعل بغاوت سمجھا جائیگا . اس کے بعد بادشاہ نے اپنی خاص فوج کو حُکم دیا کہ رات کے اندھیرے میں شہر کے مختلف حصوں میں آگ لگا دی جائے تا کہ شہر مکمل طور پر تباہ ہ جائے .اس طرح نئے سرے سے روم کی تعمیر ہوگی اور مجھے ایک دلفریب تفریح دیکھنے کا موقع بھی مل جائیگا

حکم کی تعمیل ہوئی . لوگ آگ لگتے ہی بدحواسی میں جان بچانے کیلئے گھروں سے نکل بھاگے . لیکن کوئی گھرانہ اپنے کُنبے کے مکمل افراد کیساتھ محفوظ مقامات پر نہ پہنچ سکا . کسی کا باپ , کسی کی بہن ,کسی کا بھائی ,کسی کی ماں ایک دوسرے سے بچھڑ گے . اور کئی لوگ آگ میں جھلس گے . ادھر قیامت خیز افراتفری کا منظر تھا . دوسری طرف بادشاہ روم نے اپنے محل میں تاریکی کا راج کر رکھا تھا اور محل کے سارے دروازے کھول دئیے گے . تا کہ شہر کا منظر فلم کی روشن اسکرین کیطرح نظر آئے اور باد شاہ اس خوفناک سین کو بغیر کسی دقت کے دیکھ سکے . اس لطف کو مزید بڑھانے کیلئے اس نے محفل موسیقی کا انتظام بھی کیا . بادشاہ خود بھی بانسری بجا رہا تھا

آگ محل تک پہنچ گئی تو بادشاہ خُفیہ راستے سے نکل گیا . پورا شہر خاکستر ہو گیا .ہزاروں انسان جیتے جی موت کے منہ میں چلےگئے .

اس ظالم حاکم کا نام نیرو تھا . انگریزی کا ایک مشہور مقولہ ہے کہ" روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا . "

یہ مقولہ اس واقعے کی یاد دلاتا ہے

روم کے جل جانے کے بعد شہر کی دوبارہ تعمیر کیلئے نیرو نے دولت کو پانی کی طرح بہانا شروع کر دیا . لیکن بچی کھچی رعایا اب بادشاہ کو ختم کر دینا چاہتی تھی . نیرو کے خلاف بغاوت شروع ہوئی تو بغاوت کی خبر سُن کر نیرو رعایا کو سمجھا نے کیلئے یونان سے روم واپس آیا . لیکن غُصے سے بھرے عوام نے اس کے محل محاصرہ کر لیا . نیرو بڑی مُشکل سے جان بچا کر اپنے ایک ملازم کیساتھ اس کے گاؤں چلا آیا . لیکن یہاں بھی باغیوں نے گھیرہکت لیا آخر کار وہ خودکُشی کرنے ہر مجبور ہو گیا . لیکن دوسروں کے جسموں کو اذیت ردینے والے کھیلوں کے بادشاہ کے لئے خود کو موت کی گھاٹ اُتارنا مُشکل ہو گیا . جب اس نے اپنی اذیت پسند فطرت کو تسکین دینے کیلئے میکسم تھیڑ کی بنیاد رکھی تھی .جہاں صرف اذیت کے مناظر سے تسکین حاصل کرنے والے جذبے کی تکمیل کیلئے کئی لوگوں کو زندہ درگور کیا جاتا تھا

جب نیرو خود پر خنجر اُٹھانے لگا تو اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے .آخرکار اس کے بےحد وفادار ملازم نے آگے بڑھ کر خود ہی خنجر اس کی گردن میں گھونپ دیا

متعلقہ خبریں