ایک مرتبہ سلیمان علیہ السلام اپنے لشکر کے ساتھ ہوا میں اڑتے ہوئے جا رہے تھے نیچے گہرا سمندر تھا سمندر میں خطرناک موجیں اٹھ رہی تھیں حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہواکو رکنے کا حکم دیا تو ہوا پھیل گئی پھر جنات کو سمندر میں غوطہ لگا کر اندر کے حالات معلوم کرنے کو کہا

ایک مرتبہ سلیمان علیہ السلام اپنے لشکر کے ساتھ ہوا میں اڑتے ہوئے جا رہے تھے نیچے گہرا سمندر تھا سمندر میں خطرناک موجیں اٹھ رہی تھیں حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہواکو رکنے کا حکم دیا تو ہوا پھیل گئی پھر جنات کو سمندر میں غوطہ لگا کر اندر کے حالات معلوم کرنے کو کہا

ایک مرتبہ سلیمان علیہ السلام اپنے لشکر کے ساتھ ہوا میں اڑتے ہوئے جا رہے تھے ... 16 مئی 2018 (18:06) 6:06 PM, May 16, 2018

ایک مرتبہ سلیمان علیہ السلام اپنے لشکر کے ساتھ ہوا میں اڑتے ہوئے جا رہے تھے نیچے گہرا سمندر تھا سمندر میں خطرناک موجیں اٹھ رہی تھیں حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہواکو رکنے کا حکم دیا تو ہوا پھیل گئی پھر جنات کو سمندر میں غوطہ لگا کر اندر کے حالات معلوم کرنے کو کہا جب وہ واپس آئے تو کہا کہ" اندر موتیوں کا بنا ہواایک قبہ ہے اور اسکا کوئی دروازہ بھی نہیں" آپ نے حکم دیا کہ اس کو باہر لے آؤجنات گئے اور اس قبہ کو سمندر سے باہر نکال لائےاور حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے رکھ دیا اس کو دیکھ کر آپ بہت حیران ہوئے اور اللّٰہ تعالٰی سے دعا مانگی جس سےقبہ کا دروازہ کھل گیا حضرت سلیمان علیہ السلام نے قبہ کے اندر ایک نوجوان کو دیکھا جو اللّٰہ تعالٰی کی عبادت کر رہا تھا- حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس سے پوچھا:" تم فرشتے ہو یا جن ہو " اس نوجوان نے جواب دیا کہ:"نہ ہی میں فرشتہ ہوں اور نہ ہی جن ہوں بلکہ میں انسان ہوں " حضرت سلیمان علیہ السلام نے سوال کیا کہ :"اس قبہ کے اندر تمہیں کھانا کیسے ملتا ہے" نوجوان نے جواب دیا کہ :"جب مجھے بھوک لگتی ہے تو پتھر کے اندر ایک درخت نکلتا ہے اس درخت پر ایسا پھل لگتا ہے کہ جس میں دودھ سے زیادہ سفید برف سے زیادہ ٹھنڈا اور شہد س میٹھا پانی ہوتا ہے میں وہ پھل کھا لیتا ہوں اور پانی پی لیتا ہوں اور جب میرا پیٹ بھر جاتا ہے تو وہ درخت خود ہی غائب ہو جاتا ہے " پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوچھا :"تمہیں اس میں دن اور رات کا کیسے پتہ چتا ہے" نوجوان نے جواب دیاکہ جب دن ہوتا ہے تو یہ قبہ سفید ہوتا ہے اور جب رات ہوتی ہے تو یہ قبہ کالا ہو جاتا ہےاس سے مجھے دن اور رات کا پتہ چلتا ہے" اس کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوچھا کہ :"تمہییہ فضیلت کس طرح ملی " نوجوان نے عرض کیا :"حضور مجھے یہ بزرگی اپنی ماں کی خدمت اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤکرنے پر ملی ہے میں اپنی بوڑھی ماں کو کمر پر اٹھائے رکھتا تھا اور وہ میرے لیے دعائیں کرتی رہتی تھیں کہ اے میرے معبود تو اس کونیک بنا اومیرے مرنے کے بعد ایسی جگہ پر ٹھہرا جو نہ زمین میں ہو اور نہ آسمان میں...میری ماں کے مرنے کے بعد میں ایک دن سمندر کنارے گھوم رہا تھا تو مجھے سفید موتی کا ایک چمکدار قبہ نظر آیاجب میں اس کے قریب گیا تو اس کا دروازہ کھل گیا اور میں اندر گیا توپھر دروازہ بند ہو گیا مجھے نہیں معلوم کہ میں اب آسمان میں ہوں ,زمین میں ہوں یا پھر ہوا میں, اسی کے اندر مجھے میرا رزق مل جاتا ہے"

حضرت سلیمان علیہ السلام نے دعا کی تو وہ قبہ دوبارہ سمندر میں چلا گیا-

متعلقہ خبریں