خالد بن خداش بن عجلان کہتے ہيں ۔ ميں بيت اللہ کا طواف کر رہا تھا کا ايک اندھا شخص طواف کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے

خالد بن خداش بن عجلان کہتے ہيں ۔ ميں بيت اللہ کا طواف کر رہا تھا کا ايک اندھا شخص طواف کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے

خالد بن خداش بن عجلان کہتے ہيں ۔ ميں بيت اللہ کا طواف کر رہا تھا کا ايک اندھا ... 16 مئی 2018 (18:04) 6:04 PM, May 16, 2018

خالد بن خداش بن عجلان کہتے ہيں ۔

ميں بيت اللہ کا طواف کر رہا تھا کا ايک اندھا شخص طواف کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے"اے اللہ مجھے معاف کر دے مجھے لگتا نہيں کہ تو مجھے معاف کرے گا"۔ تو ميں نے اس سے کہا کيا تو اللہ سے نہيں ڈرتا ؟ اس نے کہا ميرا ايک واقعہ ھے وہ یہ کہ ميں نے اور ميرے ايک ساتھی نے يہ قسم کھائی تھی کہ جب خضرت عثمان شہيد ھوں گۓ تو انکے رخسار پر طمانچہ ماريں گئےچناچہ انکے قتل کے بعد ہم انکے گھر ميں گئے تو ميرے ساتھی نے نائلہ (جو حضرت عثمان کی اہليہ تھیں) سے کہا کہ انکا چہرہ کھولو تو انکی اہليہ نے کہا کيوں ؟؟ میں نے کہا انکے چہرے پر طمانچہ مارنا ہے ۔ تو انکی اہليہ نے کہا ، "کيا تو اس بات پر راضی نہیں جو انکے بارے ميں رسول کريم نے فرمايا تھا"۔

یہ سن کر ميرے ساتھی کو شرم آگئی وہ واپس چلا گيا مگر ميں نے انکا چہرہ کھولنے پر اصرار کيا انکی اہليہ مجھ پر چھپٹ پڑيں مگر ميں نے خضرت عثمان کے چہرے پر طمانچہ مار ھی ليا۔

تو انکی اہليہ نے کہا تجھے کيا ملا؟؟؟ اللہ تيرے ہاتھوں کو شل کر دے تيری آنکھيں اندھی کر دے اور تجھے کبھی معاف نہ کرے، اس نے کہا واللہ ميں ابھی دروازے سے نکلا بھی نھی تھا کہ ميرا ہاتھ شل ہو گيا اور ميری آنکھ سے روشنی ختم ھو گئی اور مجھے لگتا نہيں کہ اللہ مجھے معاف کرے گا۔

متعلقہ خبریں