بہت زیادہ کا م کر نے والے افراد کے دماغ پر کیا اثر ھو تا ہے نیئ چونکا دینے والی تحقیق-

بہت زیادہ کا م کر نے والے افراد کے دماغ پر کیا اثر ھو تا ہے نیئ چونکا دینے والی تحقیق-

بہت زیادہ کا م کر نے والے افراد کے دماغ پر کیا اثر ھو تا ہے نیئ چونکا دینے ... 16 مئی 2018 (17:32) 5:32 PM, May 16, 2018

محنت میں عظمت ہے لیکن محنت اسی وقت ممکن ھے جب آپ صحت مند ھیں عمر کیساتھ انسان کی صحت زیادہ کام کی اجازت نہیں دیتی - آسٹریلیا میں میلبورن انسٹیٹیوٹ آف اکنامکس اور سوشل ریسرچ میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق 40 سال کی عمر سے زائد وہ افراد جو ہفتہ میں 25 گھنٹے سے زیادہ کام کرتے ہیں، ان کی دماغی صلاحیت میں کمی واقع ہونے لگتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ ہفتہ میں 25 گھنٹے یا اس سے کم وقت کام کرنے سے بڑی عمر کے افراد کا دماغ متحرک رہتا ہے۔ یہ اثر مرد و خواتین دونوں میں دیکھا گیا۔ 25 گھنٹے کام کرنے سے دماغ اپنے تمام افعال خوش اسلوبی سے انجام دے سکتا ہے۔لیکن اس سے زیادہ کام کرنا جسمانی اور نفسیاتی دباؤ پیدا کر سکتا ہے جس کا اثر دماغ کی کارکردگی پر ہوگا۔ریسرچ کے سربراہ کولن مک کنز نے بتایا کہ 20 سال کی عمر کے بعد دماغ میں موجود مائع جو معلومات کو ذخیرہ کرتا ہے کی کارکردگی کم ہونے لگتی ہے۔ ایک اور مادہ جو کسی چیز کو سیکھنے میں مدد دیتا ہے، 30 سال کی عمر کے بعد غیر فعال ہونے لگتا ہے۔ریسرچ کے سربراہ کولن مک کنز نے بتایا کہ 20 سال کی عمر کے بعد دماغ میں موجود مائع جو معلومات کو ذخیرہ کرتا ہے کی کارکردگی کم ہونے لگتی ہے۔ ایک اور مادہ جو کسی چیز کو سیکھنے میں مدد دیتا ہے، 30 سال کی عمر کے بعد غیر فعال ہونے لگتا ہے۔ان کے مطابق 40 سال کی عمر کے بعد لوگ ذہنی مشقوں میں ناکام اور یادداشت کے حوالے سے مسائل کا شکار ہونے لگتے ہیں۔مک کولنز نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ کئی ممالک میں ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ کیا جاچکا ہے جبکہ کئی ممالک اس پر غور کر رہے ہیں۔ یہ عمل ملکوں کی معیشت پر منفی اثر ڈالے گا کیونکہ ان کے پاس کام کرنے والے افراد ذہنی مسائل کا شکار ہوں گے۔

متعلقہ خبریں