مجھے بیٹےسے تنخواہ نہ لینے کے جرم میں نکال دیا گیا۔جیل میں ڈالنا ہے تو ڈل دیں۔ نواز شریف

مجھے بیٹےسے تنخواہ نہ لینے کے جرم میں نکال دیا گیا۔جیل میں ڈالنا ہے تو ڈل دیں۔ نواز شریف

مجھے بیٹےسے تنخواہ نہ لینے کے جرم میں نکال دیا گیا۔جیل میں ڈالنا ہے تو ڈل ... 16 مئی 2018 (16:59) 4:59 PM, May 16, 2018

اسلام آباد ( ویب ڈیسک)سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ کال دینے کی نوبت آتی ہے تو کال دی جانی چاہیے،مجھے جیل میں ڈالنا ہے ڈال دیں،کال باہر سے بھی آئے گی اور اندر سے بھی آئے گی ,مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس نے کل کہا انتخابات ملتوی ہونےکی گنجائش نہیں ہے، مجھے چیف جسٹس پاکستان کی باتیں اچھی لگیں۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں نے کرپشن کی ہوتی تویہاں نہ کھڑا ہوتا۔

سابق صدر آصف علی زرداری کے چیلنج سے متعلق سابق وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ زرداری صاحب چیف منسٹری چھیننے سے پہلے حلقوں سے ووٹ تو لے لیں، پنجاب کے حلقوں میں ان کے پاس 4 یا 5 سو ووٹ نکلتے ہیں۔

  نواز شریف نے کہا کہ انتخابات میں سب کے لیے مساوی مواقع ہونے چاہییں، آپ کسی کے ہاتھ باندھ رہے ہیں اور کسی کو کھلا چھوڑ رہے ہیں، عمران خان نے اپنا جرم تسلیم کا لیکن اسے چھوڑ دیا گیا اور مجھے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے جرم میں نکال دیا گیا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ ان کے خلاف احتساب عدالت میں زیرسماعت مقدمے کا اوپن ٹرائل ہونا چاہیے تاکہ عوام کو بھی پتہ چلے کہ مقدمے میں کیا ہے اور ہوکیا رہا ہے، حقائق قوم کے سامنے آنے چاہیے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا ہم نے جج کو لائیو کارروائی دکھانے کا خود کہا اور اپنی بات پر قائم ہیں اور نہ کبھی اپنے موقف سے ہٹے ہیں نہ کوئی یو ٹرن لی۔ ملک میں کسی قسم کی لڑائی اور خرابی نہیں چاہتے کیونکہ ہم نظریاتی لوگ ہیں اور میرے دائیں بائیں نظریاتی لوگ ہی بیٹھے ہیں۔

نواز شریف کہتے ہیں سب کیلئے ایک جیسا ماحول ہونا چاہیے کیونکہ عمران خان نے ہر چیز تسلیم کی انھیں رعایتیں دی جا رہی ہیں جبکہ عوام کو پیغام دیتا ہوں کہ جو لوگ پیسے دے کر سینیٹر بنیں ان کو چھوڑ دیں۔

 

متعلقہ خبریں