قوم کی اس بیٹی نے چھوٹی سی عمر میں وہ کر دکھایا جو لوگ کم ہی ہمت کرتے ہیں۔واقعی پاکستان کی قابل فخر بیٹی ھونے کا حق ادا کر دیا۔

قوم کی اس بیٹی نے چھوٹی سی عمر میں وہ کر دکھایا جو لوگ کم ہی ہمت کرتے ہیں۔واقعی پاکستان کی قابل فخر بیٹی ھونے کا حق ادا کر دیا۔

قوم کی اس بیٹی نے چھوٹی سی عمر میں وہ کر دکھایا جو لوگ کم ہی ہمت کرتے ... 16 مئی 2018 (16:55) 4:55 PM, May 16, 2018

ماہین سترہ برس کی بچی ہے۔ صرف سترہ برس۔ اندازہ کیجیے کہ یہ بچی روزانہ لیاری کے ستر بچوں کو بلا معاوضہ پڑھاتی ہے۔ گلیوں سے بچے پکڑ پکڑ کر لاتی ہے، اس سے پہلے کہ وہ منشیات کے عادی ہوجائیں، ماہین انہیں پینسل کٹر اور ریزر سے اٹھنے والی مہک کے نشے میں مبتلا کر دیتی ہے۔

یہ بچی یہ تک پرکھ لیتی ہے کہ میرے کس شاگرد کو قدرت نے کن مہارتوں سے مالا مال اتارا ہے۔ ماہین کسی کی ریاضی سنوار رہی ہے تو کسی کے ننھے وجود میں چھپے آرٹسٹ کو آشکار کر رہی ہے۔

کسی کی انگریزی درست کر رہی ہے تو کسی کی الجبرا سدھار رہی ہے۔ باپ کرائے کے پیسے بچا کر بچوں کے لیے کتابیں خرید رہا ہے، بیٹی ان بچوں کو پڑھا رہی ہے۔ ماہین فخر سے کہہ رہی ہے ’’سر ان بچوں میں سے بہت سے اب اسکول جا چکے ہیں‘‘۔

اس سترہ برس کی بچی کا کردار تعلیمی پراجیکٹس پر کام کرنے والی بیس این جی اوز پر بھاری ہے؟ کراچی ادبی میلے میں دستاویزی فلم کا ایک مقابلہ ہوا۔ اس مقابلے میں اسکول کے بچوں نے اساتذہ کی نگرانی میں حصہ لینا تھا۔ ماہین نے لیاری کی گلیوں سے کچھ ممولے اٹھائے اور شاہینوں سے لڑوانے پہنچ گئی۔

ایک فلم تیار کی جس کا عنوان ’’ہم انتہاپسندی کو شکست دیں گے‘‘ رکھا۔ جو اساتذہ تعلیمی اداروں سے اپنے شاگردوں کو لائے تھے، وہ دیکھتے رہ گئے اور ماہین بلوچ کے ممولے، جن کا والی وارث پندرہ برس کی ماہین کے سوا کوئی نہیں تھا، پہلے انعام کے حقدار ٹھہر گئے۔

متعلقہ خبریں